اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں کاروبار سے متعلق ریگولیٹری نظام کو جدید بنانے، مختلف قواعد و شرائط کو ایک جامع رجسٹری میں یکجا کرنے اور صوبوں میں کاروباری سہولت کے نظام کو ہم آہنگ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے معاشی اصلاحات سے متعلق اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ غیر ضروری انتظامی رکاوٹوں میں کمی اور شفاف طریقہ کار مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے اہم ہیں۔

اجلاس میں وزیراعظم نے ایک جامع ’ریگولیٹری رجسٹری‘ قائم کرنے کی ہدایت دی جس میں کاروباری سرگرمیوں سے متعلق موجودہ تقاضے، قواعد اور ضابطے ایک فریم ورک کے تحت جمع کیے جائیں۔ حکام نے اجلاس کو بتایا کہ کابینہ کمیٹی برائے ریگولیٹری ریفارمز سات مختلف شعبوں میں 557 اصلاحات کی منظوری دے چکی ہے اور سرکاری تخمینے کے مطابق ان اقدامات سے سالانہ تقریباً 460 ارب روپے کی بچت ممکن ہو سکتی ہے۔ یہ بچت ایک سرکاری تخمینہ ہے اور اس کا حقیقی حجم اصلاحات کے عملی نفاذ پر منحصر ہوگا۔

وزیراعظم نے ایزی بزنس ایکٹ کے ملک گیر نفاذ پر بھی زور دیا تاکہ مختلف صوبوں میں ریگولیٹری طریقہ کار میں زیادہ یکسانیت پیدا ہو اور کاروباری اداروں کو سہولت مل سکے۔ انہوں نے اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل کی نگرانی میں ہونے والی ریگولیٹری اصلاحات کے بارے میں کاروباری برادری کو مؤثر انداز میں آگاہ کرنے کی ہدایت کی۔

اجلاس میں وزیراعظم نے صنعتوں سے متعلق اپنے مشیر ہارون اختر خان کی سربراہی میں ایس آئی ایف سی کے وفد کو صوبوں کے دورے کی ہدایت بھی دی تاکہ صوبائی حکومتوں کو اصلاحاتی عمل میں شامل کیا جا سکے۔ پنجاب کے چیف سیکریٹری اور ایس آئی ایف سی کو کہا گیا کہ ای بز پنجاب کے نظام کو اسلام آباد کے بزنس فسیلیٹیشن سینٹر کے ساتھ مارچ 2027 تک مربوط کیا جائے۔

حکومت ان اقدامات کو کاروبار کرنے کی لاگت اور انتظامی وقت کم کرنے کی وسیع کوشش کا حصہ قرار دے رہی ہے۔ تاہم منظور شدہ اصلاحات کے نتائج کا انحصار وفاق اور صوبوں کے درمیان عمل درآمد، ڈیجیٹل نظاموں کے انضمام اور متعلقہ ریگولیٹری اداروں کی عملی تبدیلیوں پر ہوگا۔