اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے خطرات کے مؤثر مقابلے کے لیے وفاقی سطح پر ایک کمیٹی قائم کی ہے جس کا مقصد مختلف سرکاری اداروں کے ڈیٹا، نگرانی اور ردعمل کے نظام کو ایک مربوط فریم ورک میں لانا ہے۔ وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک نے یہ تفصیل سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتائی۔

بزنس ریکارڈر کے مطابق نئی کمیٹی وزارت دفاع کی نگرانی میں کام کرے گی اور اسے ایسا منصوبہ تیار کرنے کا مینڈیٹ دیا گیا ہے جس کے ذریعے موسمیات، گلیشیئر مانیٹرنگ، ارلی وارننگ سسٹمز، سیٹلائٹ معلومات، آفات سے نمٹنے اور دیگر متعلقہ سرکاری ڈیٹا کو باہم جوڑا جا سکے۔ وزیر نے کمیٹی کو بتایا کہ اس وقت مختلف ذمہ داریاں متعدد اداروں میں تقسیم ہیں، جس سے جامع قومی تصویر اور بروقت فیصلہ سازی کے لیے بین الادارہ جاتی رابطے کی ضرورت بڑھ جاتی ہے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ وزارت آبی وسائل گلیشیئرز اور آبی نظام سے متعلق امور دیکھتی ہے، پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ ارلی وارننگ کے بعض نظاموں کا ذمہ دار ہے، سپارکو سیٹلائٹ ڈیٹا مانیٹر کرتا ہے، واپڈا پانی اور بجلی کے شعبے میں کام کرتا ہے جبکہ این ڈی ایم اے اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ادارے قدرتی آفات کے ردعمل سے متعلق ذمہ داریاں انجام دیتے ہیں۔ مصدق ملک کے مطابق حکومت موسمی خطرات کی بہتر ماڈلنگ اور پیش گوئی کے لیے "ڈیجیٹل ٹوئننگ" جیسے طریقوں کے استعمال پر بھی غور کر رہی ہے۔

اجلاس میں حکام نے گلیشیائی جھیلوں اور ارلی وارننگ انفراسٹرکچر سے متعلق اعداد و شمار بھی پیش کیے۔ بریفنگ کے مطابق 115 ممکنہ طور پر خطرناک گلیشیائی جھیلوں میں سے 105 پانچ اگست تک پگھلنے کی حالت میں آ چکی تھیں۔ 2017 سے 2026 کے دوران منصوبہ بند ارلی وارننگ سسٹمز میں سے 34 فراہم کیے جا چکے ہیں اور مزید 284 نظام چھ ماہ میں فراہم کرنے کا ہدف بتایا گیا۔

قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن سینیٹر شیری رحمان نے گلیشیئر سے متعلق خطرات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں 13 ہزار سے زیادہ گلیشیئر اور تین ہزار سے زائد گلیشیائی جھیلیں موجود ہیں۔ انہوں نے تاریخی ریکارڈ کے حوالے سے گلیشیائی جھیل پھٹنے کے متعدد واقعات اور گلگت بلتستان و خیبر پختونخوا میں لاکھوں افراد کے ممکنہ خطرے کا ذکر کیا۔ کمیٹی نے جنگلات کی کٹائی اور لکڑی سے متعلق سرگرمیوں کے گزشتہ 15 سالہ رجحان کے الگ آڈٹ پر بھی زور دیا۔ نئی حکومتی کمیٹی کا عملی اثر اس کے حتمی رابطہ نظام، ڈیٹا شیئرنگ پروٹوکول اور عملدرآمد کے طریقہ کار سامنے آنے کے بعد واضح ہوگا۔