اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے متعلقہ حکام کو ملک میں سو فیصد ڈیجیٹل ادائیگیوں کا نظام قائم کرنے کے لیے واضح روڈمیپ، مقررہ مدت اور قابل پیمائش اہداف تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعظم آفس کے مطابق یہ ہدایات کیش لیس معیشت کے فروغ سے متعلق ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں دی گئیں، جس میں جاری حکومتی اقدامات اور ڈیجیٹل ادائیگی کے بنیادی ڈھانچے کا جائزہ لیا گیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام میں صارفین کو پیش آنے والے مسائل فوری طور پر حل کیے جائیں۔ ان کے مطابق کیش لیس معیشت کے لیے صرف ادائیگی کی ایپس یا بینکاری سہولت کافی نہیں بلکہ ملک بھر میں انٹرنیٹ کی دستیابی اور عام شہریوں کے لیے ٹیکنالوجی تک آسان رسائی بھی ضروری ہے۔ انہوں نے وزارت خزانہ اور متعلقہ ریاستی اداروں کی کوششوں کو جاری رکھنے کی ہدایت کی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ وفاقی اور صوبائی سرکاری اداروں میں ادائیگیوں کو ڈیجیٹل بنانے پر کام جاری ہے اور بیشتر اداروں کی ادائیگیاں رواں سال دسمبر تک مکمل طور پر ڈیجیٹل ہونے کی توقع ہے۔ حکام کے مطابق بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی سو فیصد ادائیگیاں ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے کی جا رہی ہیں، جبکہ ان علاقوں کے لیے بھی جدید نظام پر کام ہو رہا ہے جہاں انٹرنیٹ کی رسائی محدود ہے۔
وزیراعظم نے راست کیو آر کوڈ کے ذریعے صارفین اور تاجروں کے درمیان ادائیگیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے سرکاری معاونت جاری رکھنے کی ہدایت کی۔ بجلی اور گیس کے صارفین کو بلوں پر موجود کیو آر کوڈ کے ذریعے ادائیگی کی ترغیب دینے کے لیے مؤثر آگاہی مہم چلانے کا بھی کہا گیا۔
سرکاری بریفنگ کے مطابق آسان اسائنمنٹ اکاؤنٹس کے ذریعے چیک پر مبنی ادائیگیوں کا طریقہ 15 نومبر سے ختم کر کے راست ڈیجیٹل نظام کے ذریعے ادائیگیوں میں تبدیل کیا جائے گا۔ متعلقہ ڈرائنگ اینڈ ڈسبرسنگ افسران کو اس تبدیلی کے لیے تربیت دی جا چکی ہے۔
یہ اقدامات حکومت کی جانب سے نقد لین دین کم کرنے، ادائیگیوں کا قابل سراغ ریکارڈ بہتر بنانے اور سرکاری مالیاتی عمل کو ڈیجیٹل بنانے کی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ تاہم مکمل کیش لیس نظام کے لیے انٹرنیٹ کوریج، سائبر سکیورٹی، صارفین کی ڈیجیٹل خواندگی اور کم سہولت یافتہ علاقوں میں قابل اعتماد ادائیگی چینلز کی دستیابی اہم عملی چیلنج رہیں گے۔
