اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کو معاشی استحکام کے مرحلے کے بعد پائیدار اقتصادی نمو، روزگار کے نئے مواقع، پیداوار میں اضافے، ٹیکنالوجی کے استعمال اور برآمدات کے فروغ پر زیادہ توجہ دینا ہوگی۔ انہوں نے یکم اکتوبر کو نیا ناظم آباد اپارٹمنٹس ریٹ کی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں لسٹنگ کے سلسلے میں منعقدہ گونگ تقریب سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے حکومتی معاشی ترجیحات کا خاکہ پیش کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں، مالیاتی اداروں اور دیگر متعلقہ حلقوں کی مشترکہ کوششوں سے معیشت کے بعض بڑے دباؤ میں کمی آئی ہے اور اب پالیسی کا زور ایسی نمو پر ہونا چاہیے جو سرمایہ کاری، روزگار اور برآمدی صلاحیت میں اضافہ کرے۔ انہوں نے نجی شعبے کی شمولیت اور کیپٹل مارکیٹ کے ذریعے سرمایہ اکٹھا کرنے والے منصوبوں کو معیشت میں سرمایہ کاری کے متبادل ذرائع بڑھانے کے لیے اہم قرار دیا۔
تقریب نیا ناظم آباد اپارٹمنٹس ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹ کی لسٹنگ کے موقع پر ہوئی۔ ریٹ ماڈل میں سرمایہ کار رئیل اسٹیٹ منصوبوں میں براہِ راست جائیداد خریدنے کے بجائے ایک منظم سرمایہ کاری ڈھانچے کے ذریعے حصہ لے سکتے ہیں۔ حکومت اور مالیاتی منڈی کے نمائندے اس نوعیت کے منصوبوں کو طویل مدتی سرمایہ کاری، دستاویزی معیشت اور ہاؤسنگ فنانس کے دائرے کو وسیع کرنے کے ایک ذریعے کے طور پر پیش کرتے رہے ہیں۔
وزیراعظم نے اپنی تقریر میں بیرونی مالیاتی پوزیشن اور سرمایہ کار اعتماد سے متعلق بھی اعداد و شمار کا حوالہ دیا۔ ان کے مطابق حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں میں رسائی بہتر بنانے اور زرمبادلہ کی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے تین ارب ڈالر کے یورو بانڈ اور اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافے کا ذکر کیا، تاہم معاشی کارکردگی کا حتمی جائزہ آنے والے عرصے میں نمو، روزگار، مہنگائی، برآمدات اور نجی سرمایہ کاری کے نتائج سے ہی ممکن ہوگا۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بھی اس موقع پر ٹیکس نیٹ میں اضافے اور نجی سرمایہ کاری کی بحالی سے متعلق حکومتی موقف بیان کیا۔ ان کے مطابق انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ حکومت اسے رسمی معیشت کے پھیلاؤ کی علامت قرار دیتی ہے، جبکہ کاروباری حلقوں کی جانب سے ٹیکس نظام کی سادگی، پالیسی تسلسل اور سرمایہ کاری کے لیے لاگت کم کرنے کی ضرورت بھی مسلسل اجاگر کی جاتی رہی ہے۔
وزیراعظم کی تقریر میں کوئی نیا مالی پیکج یا مخصوص برآمدی مراعات کا اعلان نہیں کیا گیا۔ بنیادی پیغام یہ تھا کہ معاشی استحکام کو مستقل بنانے کے ساتھ اگلے مرحلے میں حقیقی شعبوں کی نمو اور روزگار پر توجہ بڑھائی جائے۔ آنے والے مہینوں میں بجٹ عملدرآمد، نجی سرمایہ کاری، برآمدی کارکردگی اور شرحِ سود و مہنگائی کے رجحانات اس حکمت عملی کے عملی اثرات کی اہم پیمائش ہوں گے۔
