لاہور: پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ کی فلڈ فارکاسٹنگ ڈویژن (ایف ایف ڈی) نے 8 ستمبر 2026 کے قومی فلڈ بلیٹن میں بتایا ہے کہ دریائے سندھ گڈو کے مقام پر نچلے درجے کے سیلاب میں ہے، جبکہ دیگر بڑے دریاؤں کے اہم مقامات پر بہاؤ عمومی طور پر نچلی سیلابی حد سے کم یا معمول کے دائرے میں ہے۔ دوپہر کی سرکاری صورتحال رپورٹ میں گڈو بیراج پر اخراج تقریباً 230,803 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔
ایف ایف ڈی کے مطابق تربیلا ذخیرے میں پانی کی سطح تقریباً 1,550 فٹ پر ہے اور ڈیم اپنی زیادہ سے زیادہ تحفظی سطح تک بھرا ہوا ہے۔ منگلا میں پانی کی سطح تقریباً 1,222.4 فٹ بتائی گئی، جو اس کی زیادہ سے زیادہ سطح سے نیچے ہے؛ صبح کی سرکاری اپ ڈیٹ کے مطابق منگلا تقریباً 79 فیصد بھرا ہوا تھا۔ یہ اعداد و شمار وقت کے ساتھ بدل سکتے ہیں کیونکہ ذخائر میں آمد اور اخراج مسلسل جاری رہتے ہیں۔
11 بجے جاری بلیٹن میں دریائے سندھ کے گڈو مقام کو لو فلڈ درجے میں رکھا گیا، جبکہ کابل، جہلم، چناب، راوی اور ستلج کو مجموعی طور پر اس سطح سے نیچے دکھایا گیا۔ ہائیڈرولوجیکل آؤٹ لک میں کہا گیا کہ بڑے دریاؤں کے رم اسٹیشنوں پر بہاؤ معمول کی حد میں رہنے کی توقع ہے۔ الگ سرکاری اپ ڈیٹ میں گڈو، سکھر اور بلوکی پر نچلی سیلابی سطح برقرار رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا، اس لیے مقامی مقام کے حساب سے صورتحال میں فرق ہو سکتا ہے۔
آئندہ 24 گھنٹوں کے لیے ملک کے بیشتر حصوں میں موسم بنیادی طور پر خشک رہنے کی پیش گوئی ہے، تاہم دریائے سندھ کے بالائی کیچمنٹ، خیبر پختونخوا کے بعض اضلاع اور گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں کہیں کہیں بارش، آندھی یا گرج چمک ہو سکتی ہے۔ ہفتہ وار آؤٹ لک میں مون سون سرگرمی نسبتاً کم رہنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے، لیکن مغربی موسمی نظام کے باعث 13 سے 15 ستمبر کے دوران بڑے دریاؤں کے بالائی کیچمنٹس، کشمیر، بالائی خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان میں بکھری ہوئی بارش اور گرج چمک کا امکان ہے۔
ایف ایف ڈی نے ہفتہ وار مدت میں بڑے دریاؤں کے بہاؤ کو عمومی طور پر معمول پر رہنے کی توقع ظاہر کی ہے۔ اس کے باوجود گڈو پر موجود نچلے درجے کی سیلابی کیفیت اور مکمل بھرے تربیلا ذخیرے کی وجہ سے سرکاری مانیٹرنگ اہم رہے گی۔ موجودہ بلیٹن کسی وسیع یا شدید قومی سیلاب کی وارننگ نہیں ہے؛ یہ مخصوص مقامات کی موجودہ سطح اور قلیل مدتی ہائیڈرولوجیکل پیش گوئی کی سرکاری تصویر پیش کرتا ہے۔




