پاکستان نیوی کی نئی شامل کی گئی ہنگور کلاس آبدوز پی این ایس ہنگور نے بحیرہ عرب میں اپنی پہلی لائیو ویپن فائرنگ کامیابی سے مکمل کی ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق مشق کے دوران آبدوز نے اینٹی شپ کروز میزائل کے ذریعے ایک مقررہ طویل فاصلے کے ہدف کو درست طور پر نشانہ بنایا۔ فوجی ترجمان نے اس سرگرمی کو آبدوز کی آپریشنل تیاری اور جنگی صلاحیت کے مظاہرے کے طور پر بیان کیا۔

چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے فائرنگ کا مشاہدہ کیا۔ آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق نیول چیف نے آبدوز کی جنگی صلاحیت کو سراہتے ہوئے سمندر کی سطح کے نیچے دفاعی صلاحیت بڑھانے کو پاکستان کی بحری حکمت عملی اور ڈیٹرنس کے لیے اہم قرار دیا۔ پی این ایس ہنگور رواں سال جون میں کراچی بندرگاہ پہنچی تھی اور اسے پاکستان نیوی کے آبدوزی بیڑے کی جدید کاری کے پروگرام کا حصہ قرار دیا جاتا ہے۔

ہنگور کلاس آبدوز جدید جنگی نظام، سینسرز، ایئر انڈیپنڈنٹ پروپلشن ٹیکنالوجی اور اسٹیلتھ خصوصیات سے لیس بتائی گئی ہے۔ پاکستان نیوی مجموعی طور پر آٹھ ہنگور کلاس آبدوزیں شامل کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ اس پروگرام کو پاکستان اور چین کے دفاعی تعاون کے اہم منصوبوں میں شمار کیا جاتا ہے، جبکہ نئی آبدوزوں کا مقصد زیرِ آب نگرانی، سمندری دفاع اور طویل فاصلے کی ہدف بندی کی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کامیاب فائرنگ پر پاکستان نیوی اور اس کی قیادت کو مبارک باد دی۔ وزیراعظم آفس کے بیان کے مطابق انہوں نے طویل فاصلے کے ہدف کو اینٹی شپ کروز میزائل سے نشانہ بنانے کو آبدوز فورس کی آپریشنل تیاری اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظہر قرار دیا۔ صدر آصف علی زرداری نے بھی پاکستان نیوی کی آپریشنل تیاری اور بحری دفاعی صلاحیت میں اضافے کو سراہا۔

لائیو ویپن فائرنگ کسی نئے پلیٹ فارم کی عملی جنگی تیاری جانچنے کے مراحل میں اہم سمجھی جاتی ہے، تاہم آئی ایس پی آر نے میزائل کی مخصوص رینج، ہدف کی نوعیت یا آزمائش کے تمام تکنیکی پیرامیٹرز جاری نہیں کیے۔ دستیاب سرکاری معلومات کے مطابق یہ پی این ایس ہنگور کی شمولیت کے بعد پہلی ایسی فائرنگ تھی اور اس میں مقررہ ہدف کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔