اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پاکستانی برآمد کنندگان کو عالمی منڈیوں تک بہتر بحری رسائی دینے اور نقل و حمل کی بڑھتی لاگت کم کرنے کے لیے پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (PNSC) کے ذریعے مخصوص کنٹینر جہاز لیز پر لینے یا خریدنے کی تجویز کا جائزہ شروع کردیا ہے۔ وزارتِ بحری امور کے مطابق اس اقدام کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ برآمد کنندگان اتنا کارگو حجم فراہم کر سکیں جس سے جہاز کا آپریشن تجارتی طور پر قابلِ عمل رہے۔

پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے سرکاری بیان کے مطابق وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری سے تین رکنی برآمدی وفد نے ملاقات کی اور خطے میں شپنگ روٹس کی تبدیلی سے پیدا ہونے والی مشکلات سے آگاہ کیا۔ وفد نے بتایا کہ طویل راستوں کے باعث یورپی اور امریکی منڈیوں تک پاکستانی سامان کی ترسیل میں وقت اور لاگت دونوں بڑھے ہیں، جس سے علاقائی حریفوں کے مقابلے میں مسابقتی دباؤ پیدا ہوا ہے۔

وفد میں اسٹائل ٹیکسٹائل کے چیف ایگزیکٹو شاہزاد اصغر علی، گلوبل ایڈیڈاس کے نائب صدر بینیڈکٹ برنر اور ایڈیڈاس کے سینئر ڈائریکٹر سورسنگ آپریشنز ثاقب رفیق شامل تھے۔ PNSC کے چیف ایگزیکٹو سید جرار حیدر کاظمی نے اجلاس میں آن لائن شرکت کی۔ وزیرِ بحری امور نے کہا کہ اگر کافی کارگو حجم دستیاب ہو تو PNSC کنٹینر ویسل لیز یا خریدنے کے امکان کا تجارتی جائزہ لے سکتی ہے۔

وزارت نے PNSC، وزارتِ بحری امور اور برآمد کنندگان کے نمائندوں پر مشتمل ورکنگ گروپ قائم کردیا ہے۔ یہ گروپ مخصوص کنٹینر جہاز کی فزیبلٹی کے ساتھ متبادل انتظامات کا بھی جائزہ لے گا تاکہ شپنگ کنیکٹیویٹی بہتر بنائی جا سکے، ٹرانسپورٹ اخراجات میں کمی آئے اور پاکستانی برآمدات کو عالمی منڈیوں تک زیادہ مؤثر رسائی ملے۔ برآمدی وفد دیگر برآمد کنندگان سے مشاورت کرکے عملی تجاویز ورکنگ گروپ کے سامنے رکھے گا۔

بزنس ریکارڈر نے سرکاری بیان کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ موجودہ تجویز ابھی فیصلہ شدہ خریداری یا لیز نہیں بلکہ فزیبلٹی مرحلے میں ہے۔ اس لیے جہاز کے سائز، روٹ، لاگت، مالیاتی ماڈل، بندرگاہوں اور متوقع کارگو سے متعلق تفصیلات ابھی طے ہونا باقی ہیں۔ حکومت نے بھی تجارتی پائیداری کو بنیادی شرط کے طور پر بیان کیا ہے۔

پاکستان کی برآمدی صنعت کے لیے شپنگ لاگت، ترسیلی وقت اور قابلِ اعتماد روٹس براہِ راست مسابقت سے جڑے عوامل ہیں۔ نئے ورکنگ گروپ کا اگلا مرحلہ اسی سوال کا جواب تلاش کرنا ہوگا کہ آیا برآمد کنندگان کی مجموعی طلب ایک مستقل PNSC کنٹینر سروس کو اقتصادی طور پر قابلِ عمل بنا سکتی ہے یا دیگر شراکتی انتظامات زیادہ مناسب ہوں گے۔