اسلام آباد: وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے صارفین کو مبینہ طور پر غیر ضروری یا غیر منصفانہ ڈیٹیکشن بل جاری کیے جانے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے دستی اور صوابدیدی ڈیٹیکشن بلوں پر مکمل پابندی عائد کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق وزیر نے ڈسکوز کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس میں صارفین کے تحفظ اور بجلی چوری کے خلاف کارروائی کو واضح قواعد کے تحت لانے کے لیے اصلاحاتی فریم ورک جاری کیا۔
نئے نظام کے تحت تمام ڈسکوز کو ڈیٹیکشن بل صرف پاور انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنی کے تیار کردہ مرکزی آن لائن پورٹل کے ذریعے جاری کرنا ہوں گے۔ فیلڈ عملہ یا ایس ڈی او اپنی صوابدید پر دستی ڈیٹیکشن بل جاری نہیں کر سکیں گے۔ ایسی خلاف ورزی کو سنگین بدانتظامی تصور کیا جائے گا اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی اور بڑی سزاؤں کی گنجائش رکھی گئی ہے۔
وزیر توانائی نے کہا کہ بجلی چوری روکنا قومی ترجیح ہے، لیکن اس مقصد کے نام پر ایسے صارفین پر بوجھ ڈالنا قابل قبول نہیں جو کسی خلاف ورزی میں ملوث نہ ہوں۔ اصلاحاتی فریم ورک میں فیلڈ اہلکاروں کے اختیارات کو محدود اور دستاویزی بنانے کے ساتھ ایسے افسران کے لیے بھی گنجائش رکھی گئی ہے جو قانون کے مطابق بجلی چوری کے خلاف کارروائی کرتے ہیں۔
مجوزہ تبدیلیوں کے تحت خراب یا جلے ہوئے میٹر فوری طور پر، یا زیادہ سے زیادہ دو بلنگ سائیکل کے اندر تبدیل کرنا لازم ہوگا۔ اس عرصے میں اوسط بلنگ بھی دو ماہ تک محدود رکھنے کی تجویز ہے۔ اگر میٹر کی رفتار کم یا زیادہ ثابت ہو تو وصولی یا کریڈٹ ایڈجسٹمنٹ گزشتہ دو بلنگ سائیکل تک محدود ہوگی۔ عام صارف کے غیر قانونی بجلی استعمال کے کیس میں ڈیٹیکشن بل کی مدت تین سائیکل جبکہ رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ صارفین کے لیے بالترتیب زیادہ سے زیادہ چھ اور بارہ ماہ مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
ڈسکوز کے بورڈز اور کسٹمر سروس کمیٹیوں کو ہر ماہ ڈیٹیکشن بلوں کی درستگی، شفافیت اور قانونی وصولی کا تفصیلی جائزہ لینے کی ہدایت کی گئی ہے۔ کنزیومر سروس مینوئل میں ضروری ترامیم ابھی باضابطہ عمل سے گزریں گی، اس لیے مجوزہ مدتوں اور طریقہ کار کو حتمی قانونی متن سے الگ سمجھنا ضروری ہے؛ تاہم دستی ڈیٹیکشن بلوں کے خلاف مرکزی پورٹل پر منتقلی کو فوری انتظامی اصلاح کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
