اسلام آباد: پاور ڈویژن نے اعلان کیا ہے کہ نیٹ میٹرنگ کی 11 ہزار 695 زیرِ التوا درخواستوں کے کیسز نمٹا دیے گئے ہیں اور متاثرہ صارفین سے براہِ راست رابطے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ یہ کارروائی وفاقی وزیر برائے پاور ڈویژن سردار اویس احمد خان لغاری کی ہدایت پر کی گئی۔
پاور ڈویژن کے بیان کے مطابق نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ نظام کی طرف منتقلی کے مرحلے میں مجموعی طور پر 16 ہزار 654 درخواستیں زیرِ التوا تھیں۔ ان تمام کیسز کے لیے جامع جانچ اور تصدیق کا عمل شروع کیا گیا، جس کے نتیجے میں 11 ہزار 695 درخواستوں پر کارروائی مکمل ہوئی۔ باقی 4 ہزار 959 درخواستوں کی تصدیق اور توثیق اب بھی جاری ہے، اس لیے انہیں ابھی حل شدہ کیسز میں شامل نہیں کیا گیا۔
بیان میں “کیس حل ہونے” سے مراد متعلقہ درخواست کی انتظامی جانچ اور زیرِ التوا حیثیت پر کارروائی ہے۔ اس اعلان سے یہ لازم نہیں آتا کہ ہر درخواست گزار کا کنکشن، میٹر یا حتمی معاہدہ ایک ہی وقت میں مکمل ہو چکا ہے؛ آئندہ مرحلہ ہر صارف کے انفرادی کیس، تکنیکی تقاضوں اور متعلقہ تقسیم کار کمپنی کے قواعد کے مطابق ہوگا۔
پاکستان انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنی، پی آئی ٹی سی، کو صارفین سے براہِ راست رابطے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ ادارہ ایس ایم ایس، واٹس ایپ اور دیگر ڈیجیٹل ذرائع سے درخواست گزاروں کو ان کے کیس کی جانچ، تصدیقی نتیجے اور اگلے مراحل کے بارے میں اطلاع دے رہا ہے۔ پاور ڈویژن نے صارفین سے کہا ہے کہ درخواست تیز کرانے یا مزید کارروائی کے نام پر کسی فرد کو فیس یا رقم ادا نہ کریں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ براہِ راست رابطے کا مقصد ایجنٹوں اور غیر رسمی ثالثوں پر انحصار ختم کرنا اور ہر اہل صارف کو قواعد کے مطابق اس کا حق دینا ہے۔ وزارت نے متعلقہ اداروں کو باقی درخواستوں کی جانچ تیز کرنے اور درخواست گزاروں کو واضح و شفاف معلومات فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔ یہ حکومتی مؤقف ہے؛ ہر کیس کی اہلیت دستاویزات اور تکنیکی تصدیق سے طے ہوگی۔
نیٹ میٹرنگ کے تحت چھتوں پر شمسی توانائی پیدا کرنے والے صارفین اپنی اضافی بجلی گرڈ کو دیتے اور قواعد کے تحت درآمد و برآمد شدہ یونٹس کا حساب حاصل کرتے رہے ہیں۔ نظام میں تبدیلی کے دوران درخواستوں کا بڑا ذخیرہ بننے سے ہزاروں صارفین کو غیر یقینی صورتحال کا سامنا تھا۔ موجودہ کارروائی اس انتظامی بیک لاگ کا بڑا حصہ کم کرتی ہے، مگر تمام درخواستوں کا عمل مکمل ہونے کے لیے باقی 4 ہزار 959 کیسز کی جانچ بھی ضروری ہے۔
پاور ڈویژن نے باقی کیسز نمٹانے کی کوئی مخصوص حتمی تاریخ جاری نہیں کی۔ درخواست گزاروں کے لیے بنیادی قابلِ تصدیق اطلاع وہی ہوگی جو پی آئی ٹی سی یا متعلقہ بجلی تقسیم کار کمپنی کے سرکاری ذرائع سے ان کے رجسٹرڈ نمبر پر پہنچے۔ کسی تیسرے فریق کی جانب سے منظوری، تیز کارروائی یا ادائیگی کے مطالبے کو سرکاری فیصلہ نہ سمجھا جائے۔




