انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو نے عالمی انڈیکس فراہم کرنے والے ادارے MSCI پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ انڈونیشیا کو دباؤ میں لانے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم انہوں نے کہا کہ ان کا ملک اس دباؤ سے خوفزدہ نہیں ہوگا۔ یہ ان کا گزشتہ ہفتے MSCI کی جانب سے دی گئی ڈاؤن گریڈ وارننگ اور اس کے بعد مارکیٹ میں آنے والی شدید گراوٹ پر پہلا نمایاں عوامی ردعمل ہے۔
رائٹرز کے مطابق پرابوو نے کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے MSCI کے اقدام پر سخت لہجہ اختیار کیا۔ عالمی انڈیکس اداروں کے فیصلے ابھرتی ہوئی منڈیوں کے لیے خاص اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ بڑے بین الاقوامی فنڈز اپنی سرمایہ کاری کے فیصلوں میں ان اشاریوں اور درجہ بندیوں کو استعمال کرتے ہیں۔ کسی ملک یا اس کی کمپنیوں کی درجہ بندی میں تبدیلی غیر ملکی سرمایہ کے بہاؤ اور حصص کی قیمتوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔
MSCI کی گزشتہ ہفتے کی وارننگ کے بعد انڈونیشیائی مارکیٹ میں فروخت کا دباؤ بڑھا تھا۔ سرمایہ کاروں میں خدشہ پیدا ہوا کہ اگر ملک کی مارکیٹ حیثیت یا متعلقہ حصص کی انڈیکس شمولیت متاثر ہوئی تو غیر ملکی فنڈز کو اپنی سرمایہ کاری کم کرنا پڑ سکتی ہے۔ پرابوو نے اس تناظر میں قومی معاشی خود اعتمادی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت بیرونی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گی۔
انڈونیشیا جنوب مشرقی ایشیا کی سب سے بڑی معیشت ہے اور اس کی سرمایہ منڈی خطے میں بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے اہم مقام رکھتی ہے۔ حکومت حالیہ برسوں میں بنیادی ڈھانچے، معدنیات، مینوفیکچرنگ اور نئی صنعتی سرمایہ کاری کے ذریعے معاشی توسیع کی کوشش کر رہی ہے، اس لیے عالمی مالیاتی اشاریوں میں ملک کی حیثیت پالیسی سازوں کے لیے حساس معاملہ ہے۔
صدر کے بیان سے حکومت اور عالمی مارکیٹ اداروں کے درمیان اختلاف نمایاں ہوا ہے، لیکن سرمایہ کاروں کی توجہ اس بات پر رہے گی کہ MSCI کی تشویش کے جواب میں انڈونیشیائی حکام مارکیٹ شفافیت، سرمایہ کاروں کے تحفظ اور ضابطہ جاتی اصلاحات سے متعلق کیا عملی اقدامات کرتے ہیں۔ کسی حتمی ڈاؤن گریڈ یا اس کے اثرات کا انحصار آئندہ جائزوں اور مارکیٹ کے ردعمل پر ہوگا۔
