نجکاری کمیشن کے بورڈ نے حکومت کے نجکاری پروگرام کے تحت بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں، زرعی ترقیاتی بینک لمیٹڈ اور اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن سے متعلق متعدد اہم لین دین اور آئندہ مراحل پر فیصلے کیے ہیں۔ اسلام آباد میں 22 اکتوبر کو ہونے والے اجلاس میں بورڈ نے کہا کہ سرکاری اداروں کی نجکاری کے معاملات کو شفاف، مسابقتی اور پیشہ ورانہ طریقۂ کار کے تحت آگے بڑھایا جائے گا تاکہ سنجیدہ سرمایہ کاروں کی شرکت یقینی بنائی جا سکے۔
نجکاری پروگرام میں توانائی شعبے کی تقسیم کار کمپنیاں خاص اہمیت رکھتی ہیں کیونکہ بجلی کے شعبے میں گردشی قرض، نقصانات، وصولیوں اور انتظامی کارکردگی کے مسائل طویل عرصے سے سرکاری مالیات پر دباؤ ڈالتے رہے ہیں۔ بورڈ نے متعلقہ ڈسکوز کے لین دین کی تیاری، مشیروں کے کام اور نجی شعبے کی ممکنہ شرکت سے متعلق پیش رفت کا جائزہ لیا۔ کسی کمپنی کی نجکاری کو مکمل شدہ فروخت سمجھنا اس مرحلے پر درست نہیں؛ یہ فیصلے لین دین کو اگلے مراحل تک لے جانے سے متعلق ہیں۔
زرعی ترقیاتی بینک لمیٹڈ کے معاملے میں بھی بورڈ نے نجکاری کے عمل اور ضروری تیاریوں پر غور کیا۔ زیڈ ٹی بی ایل ملک کے زرعی قرض اور دیہی مالیاتی نظام میں ایک اہم ادارہ ہے، اس لیے اس کی ملکیت یا انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی کا اثر کسانوں، زرعی قرض کی رسائی اور حکومتی مالی ذمہ داریوں پر پڑ سکتا ہے۔ اسی طرح اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کے حوالے سے کسی بھی نجکاری یا تنظیم نو کے فیصلے میں پالیسی ہولڈرز، ملازمین اور بیمہ مارکیٹ کے ضوابط اہم عوامل ہوں گے۔
بورڈ نے نجکاری کے معاملات میں سرمایہ کاروں کی اہلیت، قیمت کے تعین، قانونی تقاضوں اور مسابقتی بولی کے اصولوں پر عمل کی اہمیت دہرائی۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ نجکاری سے بعض سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر، مالی بوجھ کم اور نجی سرمایہ کاری میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ تاہم ہر ادارے کی نوعیت مختلف ہے اور حتمی نتیجہ بولی، قیمت، ریگولیٹری منظوری اور معاہدوں کی شرائط سے طے ہوگا۔
موجودہ فیصلے نجکاری پروگرام میں پیش رفت کی نشاندہی کرتے ہیں، مگر انہیں ڈسکوز، زیڈ ٹی بی ایل یا اسٹیٹ لائف کی حتمی فروخت یا ملکیت کی منتقلی کا اعلان نہیں سمجھنا چاہیے۔ نجکاری کمیشن کو آئندہ مرحلوں میں مالی اور قانونی جانچ، سرمایہ کاروں کی پری کوالیفکیشن، بولی اور حکومتی منظوری جیسے اقدامات مکمل کرنا ہوں گے۔ ان اداروں کے لین دین کی کامیابی کا جائزہ اسی وقت ممکن ہوگا جب حتمی شرائط اور منتخب سرمایہ کاروں کی تفصیلات سامنے آئیں گی۔

