اسلام آباد: نجکاری کمیشن نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کو ہدایت کی ہے کہ یوفون کے مجوزہ برانڈ نام کو ’e&‘ میں تبدیل کرنے کی منظوری فی الحال آگے نہ بڑھائی جائے، کیونکہ کمیشن کے مطابق یہ معاملہ محض ریگولیٹری نوعیت کا نہیں بلکہ متعلقہ حکومتوں کے درمیان طے شدہ وعدوں اور حکومتی سطح کے فیصلے سے تعلق رکھتا ہے۔ پی ٹی اے کے چیئرمین نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن میں بریفنگ کے دوران بتایا کہ نجکاری کمیشن نے اتھارٹی کو مجوزہ ری برانڈنگ کی اجازت جاری نہ کرنے کا کہا ہے۔

یہ معاملہ یوفون اور ٹیلی نار پاکستان کے انضمام کے بعد سامنے آیا ہے۔ دونوں آپریشنز پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن موبائل لمیٹڈ کے تحت یکجا ہو چکے ہیں اور نئی انتظامیہ نے مشترکہ موبائل کاروبار کے لیے ’e&‘ نام اختیار کرنے کی تجویز دی تھی۔ جولائی میں پی ٹی ایم ایل نے پی ٹی اے سے برانڈ نام کی تبدیلی کی اجازت طلب کی تھی، جبکہ بعد میں ریگولیٹری اور قانونی تقاضوں پر مختلف اداروں کے درمیان مشاورت جاری رہی۔

قائمہ کمیٹی کو سیکریٹری آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن نے بتایا کہ پی ٹی ایم ایل نے باقاعدہ طور پر پی ٹی اے سے نام تبدیل کرنے کی درخواست کی ہے، مگر معاملہ ابھی زیرِ غور ہے۔ ان کے مطابق پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی اور مسابقتی کمیشن آف پاکستان سمیت متعلقہ اداروں کی آرا سامنے آئی ہیں اور حکومت مختلف قانونی، پالیسی اور انتظامی پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے۔ ابھی تک یوفون کے قائم شدہ برانڈ کو ’e&‘ سے تبدیل کرنے کا حتمی حکومتی فیصلہ نہیں ہوا۔

نجکاری کمیشن کا موقف یہ ہے کہ چونکہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ کی نجکاری اور اس میں متحدہ عرب امارات کی سرکاری کمپنی اتصالات کی شمولیت سے متعلق پرانے بین الحکومتی انتظامات موجود ہیں، اس لیے برانڈ شناخت میں ایسی تبدیلی کو صرف ٹیلی کام ریگولیٹر کی سطح پر طے نہیں کیا جا سکتا۔ موجودہ ہدایت کا مطلب یہ نہیں کہ مجوزہ ری برانڈنگ مستقل طور پر مسترد کر دی گئی ہے؛ بلکہ اس کے لیے اعلیٰ حکومتی منظوری اور جاری مشاورت مکمل ہونا ضروری قرار دیا گیا ہے۔

یوفون اور ٹیلی نار پاکستان کے انضمام کے بعد نیٹ ورک، اسپیکٹرم، صارفین اور تجارتی شناخت کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کا عمل ٹیلی کام شعبے میں بڑی تبدیلی سمجھا جا رہا ہے۔ برانڈ نام کے فیصلے سے مارکیٹنگ کے ساتھ ساتھ صارف شناخت، لائسنسنگ اور سرکاری معاہدوں سے جڑے پہلو متاثر ہو سکتے ہیں۔ قائمہ کمیٹی نے حکام سے منظوری کے طریقہ کار کی وضاحت مانگی ہے اور حکومت نے کہا ہے کہ مشاورت مکمل ہونے کے بعد ہی حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔