اسلام آباد: پاکستان سنگل ونڈو (پی ایس ڈبلیو) اور پاکستان ہارٹیکلچر ڈیولپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ کمپنی (پی ایچ ڈی ای سی) نے باغبانی کے شعبے کی ڈیجیٹل تجارتی تیاری بہتر بنانے اور برآمد کنندگان کو پاکستان کے ابھرتے ہوئے ڈیجیٹل ٹریڈ ایکو سسٹم سے زیادہ مؤثر انداز میں جوڑنے کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔

سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق معاہدے کے تحت دونوں ادارے باغبانی مصنوعات سے وابستہ کاروباروں، کاشت کاروں اور برآمد کنندگان میں ڈیجیٹل تجارت کے طریقہ کار سے متعلق آگاہی اور استعداد بڑھانے کے لیے تعاون کریں گے۔ اس شراکت داری کا مقصد برآمدی عمل میں کاغذی کارروائی اور انتظامی پیچیدگی کم کرنے کے ساتھ متعلقہ فریقوں کو سنگل ونڈو نظام کے استعمال میں عملی معاونت فراہم کرنا ہے۔

پاکستان سنگل ونڈو ایک ایسا ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے جس کا مقصد درآمد، برآمد اور ٹرانزٹ ٹریڈ سے متعلق سرکاری تقاضوں کو ایک مربوط نظام کے ذریعے مکمل کرنے کی سہولت دینا ہے۔ باغبانی شعبے میں پھل، سبزیاں اور دیگر جلد خراب ہونے والی زرعی مصنوعات شامل ہونے کے باعث کلیئرنس میں تاخیر، سرٹیفکیشن اور دستاویزی تقاضے برآمدی لاگت اور معیار پر براہ راست اثر ڈال سکتے ہیں۔

پی ایچ ڈی ای سی کا کردار باغبانی مصنوعات کی ویلیو چین، معیار، مارکیٹ رسائی اور برآمدی استعداد کو بہتر بنانا ہے۔ نئی مفاہمتی یادداشت کے تحت دونوں اداروں کے درمیان تربیتی سرگرمیوں، آگاہی پروگراموں اور برآمد کنندگان کو ڈیجیٹل سہولتوں کے استعمال سے متعلق رہنمائی کے امکانات پیدا ہوں گے۔ اس تعاون سے خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو رسمی برآمدی نظام تک رسائی بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔

معاہدہ بذات خود کسی فوری برآمدی ہدف یا مالی پیکیج کا اعلان نہیں ہے۔ اس کے نتائج کا انحصار عملی تربیت، نظام کے استعمال، متعلقہ سرکاری اداروں کے انضمام اور نجی شعبے کی شمولیت پر ہوگا۔ تاہم زرعی اور باغبانی برآمدات میں مسابقت بڑھانے کے لیے دستاویزات اور کلیئرنس کو ڈیجیٹل بنانا پاکستان کی تجارتی سہولت کاری کی وسیع تر کوششوں کا اہم حصہ ہے۔

دونوں اداروں کی شراکت داری ایسے وقت سامنے آئی ہے جب پاکستان برآمدی بنیاد وسیع کرنے اور زرعی مصنوعات کو زیادہ قدر والی عالمی منڈیوں تک پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ باغبانی شعبے میں معیار، ٹریس ایبلٹی، سرٹیفکیشن اور بروقت ترسیل کے تقاضے سخت ہوتے ہیں، اس لیے ڈیجیٹل تجارتی سہولت کاری ان رکاوٹوں کو کم کرنے میں عملی کردار ادا کر سکتی ہے۔