کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بدھ کو کاروبار مثبت زون میں بند ہوا، تاہم مارکیٹ ابتدائی سیشن میں حاصل ہونے والی مضبوط تیزی برقرار نہ رکھ سکی۔ بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 368.92 پوائنٹس، یا 0.22 فیصد، اضافے کے ساتھ 169,969.33 پوائنٹس پر بند ہوا۔ دوران کاروبار انڈیکس 171,492.53 کی بلند ترین اور 169,872.14 کی کم ترین سطح تک گیا۔

صبح کاروبار کے آغاز کے بعد انڈیکس نے تیزی دکھائی اور 9 بج کر 38 منٹ تک 947.20 پوائنٹس اضافے سے 170,547.60 تک پہنچ گیا۔ بعد میں خریداری کی رفتار کم ہوئی اور منافع کے حصول کے باعث ابتدائی اضافہ محدود ہو گیا۔ کاروباری دن کے اختتام پر انڈیکس 170 ہزار کی نفسیاتی سطح سے معمولی نیچے رہا۔

مارکیٹ کی توجہ حکومت پاکستان اور دورہ کرنے والے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے مشن کے درمیان جاری پروگرام جائزہ مذاکرات پر مرکوز رہی۔ سرمایہ کار ان مذاکرات میں پیش رفت کے اشاروں کو دیکھ رہے ہیں۔ اس کے ساتھ وزارت خزانہ کی جانب سے مقامی کرنسی بانڈ مارکیٹ کے لیے اسٹریٹجک ایکشن پلان بھی سامنے آیا، جس کا مقصد ثانوی مارکیٹ میں لیکویڈیٹی بہتر کرنا، سرمایہ کاروں کی بنیاد وسیع کرنا اور روپے میں حکومتی سکیورٹیز کے ڈھانچے کو مضبوط بنانا بتایا گیا ہے۔

مارکیٹ سینٹیمنٹ پر توانائی شعبے سے متعلق اس رپورٹ کا بھی اثر رہا کہ حکومت پاور پلانٹس اور نجی کمپنیوں کو براہ راست ایل این جی درآمد کرنے کی اجازت دینے کی تجویز پر غور کر رہی ہے۔ تاہم یہ اقدام ابھی زیر غور تجویز ہے، حتمی نافذ شدہ پالیسی نہیں۔ عارف حبیب لمیٹڈ کے تجزیہ کار علی نجیب کے مطابق 170 ہزار پوائنٹس قلیل مدت میں ایک اہم نفسیاتی سطح رہے گی، جبکہ آئی ایم ایف جائزہ، مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور خام تیل کی قیمتیں مارکیٹ کی سمت پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔ یہ تجزیہ مارکیٹ رائے ہے، یقینی پیش گوئی نہیں۔

کاروباری حجم بڑھ کر 591.2 ملین شیئرز رہا، جو ایک روز قبل 568 ملین شیئرز تھا، جبکہ حصص کی مجموعی مالیت 20.19 ارب روپے رہی۔ ریڈی مارکیٹ میں 495 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا، جن میں 253 کی قیمتوں میں اضافہ، 195 میں کمی اور 47 میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ پاکستان انٹرنیشنل بلک ٹرمینل 73.5 ملین شیئرز کے ساتھ حجم کے لحاظ سے نمایاں رہا۔