کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعرات کو ابتدائی تیزی کے بعد فروخت کا دباؤ بڑھ گیا اور بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس 1,332.47 پوائنٹس یا 0.78 فیصد کمی کے ساتھ 168,636.85 پوائنٹس پر بند ہوا۔ کاروبار کے آغاز میں انڈیکس 170,000 کی سطح سے اوپر گیا اور دورانِ سیشن 170,688.38 پوائنٹس کی بلند ترین سطح چھوئی، تاہم بعد میں مسلسل فروخت سے یہ 168,567.79 پوائنٹس تک نیچے آیا۔
بزنس ریکارڈر اور ڈان کی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق بینکنگ، تیل و گیس تلاش کرنے والی کمپنیوں، سیمنٹ اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں میں فروخت نے مجموعی انڈیکس پر دباؤ ڈالا۔ پاکستان پیٹرولیم، یونائیٹڈ بینک، حب پاور، آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی اور فوجی فرٹیلائزر سمیت بعض بڑے حصص انڈیکس میں کمی کے نمایاں اسباب میں شامل رہے۔
مارکیٹ رپورٹس میں سرمایہ کاروں کی احتیاط کی وجہ بلند عالمی خام تیل قیمتوں، علاقائی جغرافیائی سیاسی غیر یقینی اور پاکستان میں مہنگائی کے تازہ اعداد کو قرار دیا گیا۔ ستمبر میں سالانہ صارف مہنگائی 10.3 فیصد رپورٹ ہوئی، جبکہ توانائی اور ٹرانسپورٹ اخراجات میں دباؤ برقرار رہا۔ تجزیہ کاروں نے بتایا کہ مہنگی توانائی کی درآمدات اور بیرونی حالات میں غیر یقینی نے خطرے سے گریز کے رجحان کو تقویت دی۔
ڈان کے مطابق جمعرات کو مجموعی ٹریڈنگ والیوم 7.24 فیصد کم ہو کر 548.4 ملین حصص رہا، جبکہ کاروباری مالیت تقریباً 15.5 فیصد کمی کے بعد 17.05 ارب روپے رہی۔ ایکسپریس ٹریبیون کے اعداد کے مطابق ریڈی مارکیٹ میں 121 کمپنیوں کے حصص بڑھے، 323 میں کمی ہوئی اور 48 بغیر تبدیلی کے بند ہوئے۔ اس سے مارکیٹ کی مجموعی سمت منفی رہی، اگرچہ صبح کے وقت خریداری نے انڈیکس کو 170 ہزار سے اوپر پہنچا دیا تھا۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں روزانہ کی حرکت ملکی اور عالمی دونوں عوامل سے متاثر ہوتی ہے، اس لیے ایک سیشن کی کمی کو طویل مدتی رجحان کا حتمی اشارہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ تاہم جمعرات کا سیشن اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سرمایہ کار اس وقت تیل کی قیمتوں، بیرونی سفارتی پیش رفت، شرحِ سود اور مہنگائی کے ممکنہ اثرات کو خاص توجہ سے دیکھ رہے ہیں۔ آئندہ سیشنز میں انہی عوامل کے ساتھ کمپنیوں کے بنیادی نتائج اور مقامی سیاسی و معاشی پیش رفت مارکیٹ کی سمت کے لیے اہم رہیں گے۔
