کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعرات کو شدید فروخت دیکھنے میں آئی اور بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 3,078 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 168,865 پوائنٹس پر بند ہوا۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر یہ تقریباً 1.8 فیصد کمی بنتی ہے، جبکہ دوران کاروبار انڈیکس دو فیصد سے بھی زیادہ نیچے گیا۔
مارکیٹ میں دباؤ کی بڑی وجہ عالمی خام تیل کی قیمتوں میں تیز اضافہ اور مشرق وسطیٰ کی بڑھتی جغرافیائی سیاسی غیر یقینی بتائی گئی۔ برینٹ خام تیل تقریباً 103 ڈالر فی بیرل تک پہنچا، جو مئی کے بعد بلند سطح تھی۔ پاکستان جیسے توانائی درآمد کرنے والے ملک کیلئے مہنگا تیل درآمدی بل، افراط زر اور بیرونی ادائیگیوں کے توازن سے متعلق خدشات بڑھاتا ہے، اور یہی عوامل سرمایہ کاروں کے خطرہ لینے کے رجحان پر اثر انداز ہوئے۔
کے ٹریڈ کے اعداد و شمار کے مطابق کاروباری سرگرمی نسبتاً بلند رہی اور تقریباً 261 ملین شیئرز کا لین دین ہوا۔ سائینرجی، کے الیکٹرک اور پاکستان انٹرنیشنل بلک ٹرمینل زیادہ سرگرم حصص میں شامل رہے۔ فروخت کا دباؤ کسی ایک شعبے تک محدود نہیں رہا بلکہ وسیع پیمانے پر سرمایہ کاروں نے خطرہ کم کرنے کیلئے پوزیشنیں ہلکی کیں۔
رپورٹ کے مطابق مارکیٹ تقریباً تین ہفتوں سے دباؤ میں ہے، جس سے مسلسل محتاط سرمایہ کاری کا رجحان ظاہر ہوتا ہے۔ خام تیل کی قیمت، مشرق وسطیٰ کی جنگ اور عالمی مالیاتی حالات سے متعلق خبروں نے مقامی حصص بازار کی سمت پر نمایاں اثر ڈالا ہے۔ ایسی صورتحال میں روزانہ کی تیز اتار چڑھاؤ صرف کمپنیوں کے بنیادی مالی نتائج کے بجائے بیرونی خبروں سے بھی جڑا رہ سکتا ہے۔
تیل کی بلند قیمت پاکستان کیلئے متعدد راستوں سے اہم ہے۔ ایندھن مہنگا ہونے سے ٹرانسپورٹ اور صنعت کی لاگت بڑھ سکتی ہے، درآمدی ادائیگیاں زیادہ ہو سکتی ہیں اور افراط زر کی توقعات پر دباؤ پڑ سکتا ہے۔ تاہم ان اثرات کا حتمی حجم عالمی قیمتوں کے تسلسل، روپے کی شرح مبادلہ اور ملکی پالیسی اقدامات پر منحصر ہوگا۔
مارکیٹ تجزیے میں قریبی مدت کیلئے اتار چڑھاؤ برقرار رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ اگر تیل کی قیمتیں اور جغرافیائی سیاسی خطرات کم نہ ہوئے تو سرمایہ کار محتاط رہ سکتے ہیں۔ یہ ایک مارکیٹ آؤٹ لک ہے، یقینی پیش گوئی نہیں؛ جمعرات کی قابل تصدیق صورتحال یہ ہے کہ کے ایس ای 100 نے 3,078 پوائنٹس کھوئے اور 168,865 پر بند ہوا۔




