کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بدھ کے کاروباری سیشن کے دوران تیزی کا رجحان برقرار رہا اور بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس مسلسل تیسرے سیشن مثبت زون میں بند ہوا۔ مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی اور امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں نسبتاً نرمی کے اشاروں نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بہتر کیا۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق ٹاپ لائن سکیورٹیز نے مارکیٹ کی بحالی کو عالمی خام تیل کی نرم قیمتوں اور امریکا ایران تعلقات میں بہتری کی توقعات سے جوڑا۔ پاکستان توانائی کی ضروریات کے لیے درآمدی ایندھن پر انحصار کرتا ہے، اس لیے عالمی تیل کی قیمتوں میں کمی سے درآمدی بل، مہنگائی اور بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ سے متعلق سرمایہ کاروں کی توقعات متاثر ہوتی ہیں۔

حالیہ علاقائی کشیدگی کے دوران عالمی تیل کی قیمتوں میں تیزی اور رسد سے متعلق خدشات نے پاکستان سمیت توانائی درآمد کرنے والی معیشتوں کے لیے غیر یقینی صورتحال بڑھائی تھی۔ اس پس منظر میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کو مقامی مارکیٹ نے نسبتاً مثبت اشارے کے طور پر لیا۔ تاہم عالمی سفارتی صورتحال تیزی سے بدل سکتی ہے اور کسی نئی کشیدگی کی صورت میں توانائی اور مالیاتی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ دوبارہ بڑھ سکتا ہے۔

اسٹاک مارکیٹ کی روزانہ حرکت صرف جغرافیائی سیاسی عوامل پر منحصر نہیں ہوتی۔ شرح سود، روپے کی قدر، کمپنیوں کے منافع، حکومتی مالیاتی پالیسی، آئی ایم ایف پروگرام، غیر ملکی سرمایہ کاری اور مقامی لیکویڈیٹی بھی حصص کی قیمتوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اسی لیے ایک یا چند مثبت سیشنز کو طویل مدتی رجحان کا حتمی ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔

پاکستانی سرمایہ کاروں کی توجہ اس وقت عالمی تیل کی قیمتوں کے ساتھ امریکا ایران سفارتی رابطوں اور ملکی معاشی اشاریوں پر بھی مرکوز ہے۔ اگر توانائی کی قیمتوں میں نرمی برقرار رہتی ہے تو پاکستان کے درآمدی اخراجات کے حوالے سے دباؤ کم ہونے کی توقع پیدا ہو سکتی ہے، جبکہ کسی نئی علاقائی کشیدگی سے یہ فائدہ محدود ہو سکتا ہے۔

مسلسل تیسرے مثبت سیشن نے حالیہ کمزوری کے بعد مارکیٹ میں بحالی کا اشارہ دیا ہے، لیکن آنے والے کاروباری دنوں میں انڈیکس کی سمت عالمی سیاسی پیش رفت، خام تیل کی قیمتوں اور ملکی مالیاتی خبروں کے امتزاج سے متعین ہونے کا امکان ہے۔