پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ختم ہونے والا ہفتہ اتار چڑھاؤ کے باوجود تقریباً فلیٹ بند ہوا اور کے ایس ای 100 انڈیکس 170,765 پوائنٹس پر آ گیا۔ ڈان کے مطابق انڈیکس گزشتہ ہفتے کے 170,885 پوائنٹس کے مقابلے میں 120 پوائنٹس، یعنی تقریباً 0.1 فیصد، کم رہا۔ مارکیٹ کے تجزیہ کاروں نے امریکی۔ایرانی تنازع، عالمی خام تیل کی بلند اور غیر مستحکم قیمتوں اور آئی ایم ایف جائزے کو سرمایہ کاروں کے محتاط رویے کے اہم عوامل قرار دیا۔
ہفتے کی ایک بڑی کاروباری پیش رفت ملک کی پانچ میں سے چار ریفائنریوں، اٹک ریفائنری، پاکستان ریفائنری، نیشنل ریفائنری اور سینرجیکو پی کے، کی جانب سے طویل عرصے سے منتظر اپ گریڈ معاہدوں پر دستخط تھی۔ یہ معاہدے موجودہ یا براؤن فیلڈ ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن پالیسی کے تحت انٹر اسٹیٹ گیس سسٹمز کے ساتھ کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق ان منصوبوں میں اگلے پانچ سال کے دوران تقریباً 5 ارب ڈالر سرمایہ کاری متوقع ہے، جس کا مقصد ریفائننگ صلاحیت جدید بنانا، صاف یورو فائیو ایندھن کی پیداوار بڑھانا اور فرنس آئل کا حصہ کم کرنا ہے۔
اوسط یومیہ کاروباری حجم 670.2 ملین حصص رہا، جو ہفتہ وار بنیاد پر 48.2 فیصد زیادہ تھا، جبکہ اوسط تجارتی مالیت 80.7 ملین ڈالر رہی اور اس میں 7.7 فیصد اضافہ ہوا۔ شعبہ جاتی اعتبار سے کھاد، تیل و گیس تلاش، آئل مارکیٹنگ، ریفائنری اور انویسٹمنٹ بینکنگ کے حصص نے انڈیکس کو مثبت پوائنٹس دیے، جبکہ بینکاری، پاور، ٹیکنالوجی اور بعض دیگر شعبوں نے دباؤ ڈالا۔
اسی دوران برینٹ خام تیل ہفتے کے اختتام پر تقریباً 104.9 ڈالر فی بیرل رہا۔ ملکی سطح پر اگست میں بجلی پیداوار سالانہ بنیاد پر 5.1 فیصد بڑھ کر 14,943 گیگاواٹ آور ہوئی، جبکہ زیادہ آر ایل این جی اور فرنس آئل استعمال کے باعث اوسط پیداواری لاگت پر دباؤ رہا۔ 18 ستمبر تک پاکستان کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر 26.8 ارب ڈالر اور اسٹیٹ بینک کے ذخائر 21.4 ارب ڈالر بتائے گئے۔ یہ اعداد مارکیٹ کی ہفتہ وار تصویر پیش کرتے ہیں؛ آئندہ رجحان تیل کی قیمتوں، علاقائی کشیدگی اور آئی ایم ایف جائزے سمیت بدلتے عوامل سے متاثر ہو سکتا ہے۔

