اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی اور میٹا نے ریسائیکل کیے گئے موبائل نمبروں سے منسلک ایک لاکھ 76 ہزار واٹس ایپ اکاؤنٹس بلاک کر دیے ہیں۔ حکام کے مطابق یہ اقدام ان شکایات کے بعد کیا گیا جن میں غیر فعال یا منسوخ شدہ سم نمبروں سے وابستہ پرانے واٹس ایپ اکاؤنٹس کو سائبر فراڈ کے لیے استعمال کیے جانے کا خدشہ سامنے آیا تھا۔
موبائل نمبر اس وقت ریسائیکل ہوتا ہے جب سابق صارف کی سم بند ہونے کے بعد وہی نمبر کچھ عرصے بعد کسی نئے صارف کو جاری کر دیا جاتا ہے۔ اگر سابق صارف کا واٹس ایپ اکاؤنٹ اس نمبر سے بدستور منسلک رہے تو شناخت، رابطوں یا اکاؤنٹ تک غیر مجاز رسائی کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ پی ٹی اے نے اسی مسئلے سے نمٹنے کے لیے میٹا کے ساتھ نمبروں کی تصدیق اور متعلقہ اکاؤنٹس کی بندش کا عمل شروع کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق پی ٹی اے تقریباً ایک کروڑ ریسائیکل موبائل نمبر میٹا کو جانچ کے لیے فراہم کر چکا ہے، جبکہ ملک کے ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس مجموعی طور پر تقریباً ایک کروڑ 60 لاکھ ایسے نمبر موجود ہیں۔ دونوں اداروں نے مستقل انتظام کے تحت ہر ماہ پانچ ہزار نئے ریسائیکل نمبروں کا ڈیٹا شیئر کرنے پر اتفاق کیا ہے تاکہ ان سے وابستہ پرانے واٹس ایپ اکاؤنٹس کی شناخت اور مرحلہ وار بندش ممکن بنائی جا سکے۔
پی ٹی اے حکام کے مطابق گزشتہ سال میٹا نے ریگولیٹر کی جانب سے بھیجی گئی شکایات میں سے 82 فیصد کو حل کیا۔ تازہ اقدام کا مقصد صارفین کو ایسے فراڈ سے بچانا ہے جو نمبر کی ملکیت تبدیل ہونے کے بعد بھی پرانے ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے فعال رہنے سے ممکن ہو سکتا ہے۔ صارفین کے لیے ضروری ہے کہ نمبر تبدیل کرتے وقت متعلقہ ایپس میں نمبر کی تبدیلی یا اکاؤنٹ منتقلی کا باقاعدہ طریقہ اختیار کریں، تاکہ پرانا نمبر دوبارہ جاری ہونے کی صورت میں ذاتی اکاؤنٹ اس سے منسلک نہ رہے۔
