لاہور: پنجاب حکومت نے صوبے کے 300 دیہی مراکز صحت کو مکمل ہسپتالوں میں تبدیل کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے ویڈیو لنک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے موجودہ رورل ہیلتھ سینٹرز، جنہیں مریم نواز ہسپتالوں کے نام سے بھی چلایا جا رہا ہے، میں علاج کی سہولتیں بڑھانے اور انہیں زیادہ جامع طبی مراکز میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا۔
منصوبے کا مقصد دیہی آبادی کو بنیادی علاج سے آگے بڑھ کر ایسی خدمات مقامی سطح پر فراہم کرنا ہے جن کے لیے مریضوں کو عموماً تحصیل یا ضلعی ہیڈکوارٹر ہسپتال جانا پڑتا ہے۔ مکمل تفصیلی سروس پیکج ہر مرکز کے لیے الگ ہو سکتا ہے، تاہم اپ گریڈیشن میں طبی عملے، تشخیصی سہولتوں، ادویات، ہنگامی خدمات اور عمارت و آلات کی ضروریات اہم ہوں گی۔
اجلاس میں صوبے کی موبائل طبی خدمات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وزیراعلیٰ کے مطابق 911 کلینکس آن وہیلز نے اب تک تقریباً تین کروڑ مریضوں کو طبی سہولت فراہم کی ہے۔ موبائل کلینکس کا مقصد ایسے علاقوں تک بنیادی صحت خدمات پہنچانا ہے جہاں مستقل ہسپتال یا کلینک تک رسائی محدود ہو۔ حکومت نے اس پروگرام کو دیہی اور کم سہولت یافتہ آبادی کے لیے صحت کی رسائی بڑھانے کے ایک ذریعے کے طور پر پیش کیا ہے۔
پنجاب میں سرکاری صحت کا نظام بنیادی مراکز صحت، رورل ہیلتھ سینٹرز، تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتالوں اور ضلعی و تدریسی ہسپتالوں پر مشتمل ہے۔ دیہی مراکز کو مکمل ہسپتالوں میں تبدیل کرنے سے مریضوں کے ریفرل نظام اور بڑے ہسپتالوں پر دباؤ میں تبدیلی آ سکتی ہے، بشرطیکہ نئی سہولتوں کے ساتھ مطلوبہ ڈاکٹر، نرسیں، تکنیکی عملہ اور ادویات مستقل بنیادوں پر دستیاب ہوں۔
منصوبے کی کامیابی کا اصل پیمانہ صرف عمارتوں کی اپ گریڈیشن نہیں بلکہ علاج کی دستیابی، عملے کی حاضری، ضروری ادویات، تشخیصی سہولتوں اور مریضوں کے نتائج ہوں گے۔ حکومت نے 300 مراکز کے لیے توسیع کا فیصلہ کر لیا ہے، تاہم ہر مرکز کے کام، بجٹ اور تکمیل کے تفصیلی شیڈول کے مطابق عملی پیش رفت مختلف مراحل میں سامنے آئے گی۔

