لاہور: پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی نے صوبے میں ڈیجیٹل نگرانی کا دائرہ 98 تحصیلوں تک بڑھانے کے لیے تقریباً 16 ارب روپے مالیت کا منصوبہ شروع کیا ہے۔ حکام کے مطابق نئے پروگرام میں 10 ہزار اضافی کیمرے نصب کیے جائیں گے اور موجودہ سیف سٹی نظام کو تحصیل اور یونین کونسل سطح تک وسعت دی جائے گی۔

سیف سٹی آپریشنز اس وقت پنجاب کے قریب 40 شہروں میں فعال ہیں، جہاں ہائی ڈیفینیشن کیمرے اور مربوط مانیٹرنگ نظام پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو معلومات فراہم کرتے ہیں۔ ایک سرکاری عہدیدار کے مطابق وزیراعلیٰ مریم نواز نے منصوبے کو 7,602 یونین کونسلوں تک لے جانے کی منظوری دی ہے۔ حکام اسے صوبے کے ڈیجیٹل پولیسنگ نیٹ ورک کی بڑی توسیع قرار دے رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پنجاب میں اس وقت 43 اسمارٹ سیف سٹی مراکز مسلسل نگرانی اور ٹیکنالوجی پر مبنی معاونت فراہم کر رہے ہیں۔ ان مراکز میں ویڈیو اینالیٹکس اور ڈیجیٹل شواہد کے ذریعے مشتبہ سرگرمیوں، جرائم کے رجحانات اور پولیس کے فوری ردعمل میں مدد لینے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ صوبے میں 24 ہزار سے زیادہ ہائی ڈیفینیشن نگرانی کیمرے سڑکوں، بازاروں، شاہراہوں اور عوامی مقامات کی مانیٹرنگ کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

حکام کے مطابق ایک درجن سے زیادہ اندرونی مصنوعی ذہانت کے نظام بھی فعال ہیں، جن میں آٹومیٹک نمبر پلیٹ ریکگنیشن، چہرہ شناخت، اسمارٹ وژن، کرائم اینالیٹکس اور انٹیلی جنٹ ٹریفک مینجمنٹ شامل ہیں۔ ان ٹیکنالوجیز کا مقصد چوری شدہ گاڑیوں کی شناخت، مشتبہ رویوں کا تجزیہ اور ممکنہ جرائم کے مقامات کے بارے میں پولیس کو معلومات دینا بتایا گیا ہے۔

صوبائی حکام نے سیف سٹی نظام کے بعد سنگین جرائم میں نمایاں کمی کا دعویٰ کیا ہے، تاہم اس دعوے کی آزادانہ جانچ اس رپورٹ کا حصہ نہیں۔ وسیع پیمانے پر کیمرہ نگرانی اور چہرہ شناخت جیسی ٹیکنالوجیز کے استعمال کے ساتھ ڈیٹا تحفظ، شہری رازداری، غلط شناخت اور نگرانی کے قانونی دائرہ کار سے متعلق سوالات بھی اہم رہتے ہیں۔ منصوبے کی کامیابی کا انحصار تکنیکی کارکردگی کے ساتھ واضح ضابطوں، ڈیٹا سکیورٹی اور جوابدہی کے انتظامات پر بھی ہوگا۔