پنجاب حکومت کے تقریباً 5 ارب روپے کے سیف جیل منصوبے کے تحت صوبائی جیلوں میں نگرانی اور انتظامی رابطہ بہتر بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹیکنالوجی کے استعمال کی تجویز سامنے آئی ہے۔ ایک چینی ماہرین کے وفد نے پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ میں ہونے والے اجلاس کے دوران مرکزی کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے لیے اے آئی بیسڈ کانٹینٹ مینجمنٹ سسٹم اور سمارٹ ویڈیو کانفرنسنگ سہولیات سے متعلق تجاویز پیش کیں۔
اجلاس کی صدارت ایڈیشنل سیکریٹری جیل خانہ جات رومان بورانہ نے کی جبکہ ڈی آئی جی جیل خانہ جات نوید اشرف، پراجیکٹ ڈائریکٹر امتیاز عباس، این آر ٹی سی کے پراجیکٹ منیجرز اور دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق چینی وفد میں جوڈی کم اور ایرک ژانگ سمیت ماہرین شامل تھے، جنہوں نے نگرانی، معلومات کے انتظام اور جیلوں کے درمیان محفوظ رابطے کے لیے جدید نظام کی ممکنہ ساخت پر بریفنگ دی۔
مجوزہ اے آئی نظام کا مقصد بڑی مقدار میں ویڈیو اور سکیورٹی فیڈز کو منظم کرنا، مشتبہ سرگرمیوں کی نشاندہی میں انسانی عملے کی مدد کرنا اور مختلف جیلوں سے آنے والی معلومات کو مرکزی سطح پر قابلِ استعمال شکل میں جمع کرنا بتایا گیا ہے۔ سمارٹ ویڈیو کانفرنسنگ سہولت عدالتی پیشیوں، انتظامی اجلاسوں اور بین الادارہ رابطے کے بعض امور میں بھی استعمال ہو سکتی ہے، تاہم اس کے حتمی دائرۂ کار، ڈیٹا رکھنے کے قواعد، پرائیویسی تحفظ اور خودکار فیصلوں کی حدود کے بارے میں تفصیلی سرکاری ضوابط ابھی سامنے نہیں آئے۔
جیلوں میں اے آئی نگرانی متعارف کرانے کے ساتھ انسانی نگرانی، غلط شناخت کے خطرے، بایومیٹرک یا چہرہ شناسی جیسے حساس ڈیٹا کے ممکنہ استعمال، سسٹم کی سائبر سکیورٹی اور قیدیوں و عملے کی پرائیویسی کے سوالات بھی اہم ہوں گے۔ دستیاب رپورٹ میں یہ نہیں کہا گیا کہ تمام تجاویز کو حتمی منظوری دے دی گئی ہے؛ فی الحال انہیں سیف جیل منصوبے کے تکنیکی ڈیزائن کے حصے کے طور پر زیر غور تجاویز کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
پنجاب حکومت کا سیف جیل منصوبہ صوبے کی جیلوں میں روایتی حفاظتی انتظامات کو مرکزی ڈیجیٹل مانیٹرنگ کے ساتھ جوڑنے کی کوشش ہے۔ عملی پیش رفت اس وقت واضح ہوگی جب حکومت خریداری، تنصیب، آزمائشی مرحلے، سائبر سکیورٹی معیار اور ڈیٹا گورننس کے حتمی قواعد جاری کرے گی۔ اس لیے موجودہ مرحلے پر بنیادی مصدقہ پیش رفت یہ ہے کہ چینی ماہرین نے اے آئی پر مبنی نگرانی اور سمارٹ رابطہ ٹیکنالوجی کی باقاعدہ تجاویز پنجاب حکام کے سامنے رکھی ہیں۔




