لاہور: پنجاب حکومت نے پروونشل انٹیلی جنس فیوژن اینڈ تھریٹ اسیسمنٹ سینٹر، پیفٹیک، اور مصنوعی ذہانت پر مبنی اے آئی ہب کا افتتاح کر دیا ہے۔ صوبائی حکومت کے مطابق نئے انتظامی و تکنیکی ڈھانچے کا مقصد مختلف سکیورٹی اداروں کی معلومات کو مربوط کرنا، ابھرتے خطرات کا بروقت جائزہ لینا اور کسی واقعے کے سنگین صورت اختیار کرنے سے پہلے متعلقہ حکام کو کارروائی کے قابل معلومات فراہم کرنا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے پیفٹیک کی افتتاحی تقریب اور اے آئی ہب پنجاب کی ای لانچ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب پاکستان کا پہلا صوبہ ہے جس نے اس نوعیت کا اے آئی ہب قائم کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ منصوبہ چند ماہ میں عملی شکل اختیار کر گیا اور اس کی تیاری میں محکمۂ داخلہ، پولیس، اسپیشل برانچ اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشترکہ طور پر کام کیا۔ انہوں نے پاکستان آرمی اور لاہور کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل فیاض حسین شاہ کے تعاون کا بھی ذکر کیا۔

جاری کردہ تفصیل کے مطابق اے آئی سے معاون نظام ضلعی رابطہ کمیٹیوں کو ڈیجیٹل الرٹس بھیجے گا تاکہ مقامی انتظامیہ ممکنہ مسئلے کی نشاندہی کرکے اسے بڑے واقعے میں تبدیل ہونے سے پہلے دیکھ سکے۔ پیفٹیک کو دہشت گردی اور دوسرے سکیورٹی خطرات کے خلاف ردِعمل کا وقت کم کرنے، اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے کو تیز کرنے اور خطرے کی مشترکہ تصویر تیار کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ تاہم خبر کے ساتھ الگ تکنیکی دستاویز، استعمال ہونے والے ماڈلز، ڈیٹا ذرائع، درستگی کے پیمانے یا نگرانی کے ضابطوں کی تفصیل جاری نہیں کی گئی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ دریائی علاقوں، صوبائی سرحدوں اور سہ طرفہ سرحدی خطوں سے پیدا ہونے والے خطرات کے باعث بروقت انٹیلی جنس رابطہ ضروری ہے۔ ان کے مطابق حساس علاقوں میں مشترکہ چیک پوسٹوں کو بلٹ پروف سہولیات، تھرمل اور نائٹ وژن کیمروں سے مضبوط کیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ پنجاب میں جرائم میں 70 فیصد تک کمی آئی ہے؛ یہ شرح صوبائی حکومت کا بیان ہے اور APP کی رپورٹ میں اس کے ساتھ الگ اعداد و شمار یا آزادانہ تجزیہ فراہم نہیں کیا گیا۔

پولیس اہلکاروں کو باڈی کیمرے دینے کا ذکر بھی کیا گیا، جسے دورانِ ڈیوٹی طرزِ عمل کی نگرانی اور جواب دہی بہتر بنانے کے اقدام کے طور پر پیش کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے قانون و نظم کو ترقیاتی منصوبوں کے برابر اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہریوں کی جان و مال محفوظ نہ ہو تو بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے فوائد محدود رہ جاتے ہیں۔

اے آئی کے استعمال سے متعلق سرکاری اعلان میں نظام کے مقاصد بیان کیے گئے ہیں، مگر عوامی ڈیٹا کے تحفظ، خودکار فیصلوں میں انسانی نگرانی، غلط الرٹ کی جانچ اور شہریوں کی شکایات کے طریقۂ کار کی تفصیل سامنے نہیں آئی۔ اس لیے خبر میں پیفٹیک اور اے آئی ہب کے افتتاح کو تصدیق شدہ پیش رفت، جبکہ مستقبل کے سکیورٹی نتائج کو حکومتی توقع کے طور پر الگ رکھا گیا ہے۔ معلومات ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کی 5 ستمبر 2026 کی رپورٹ پر مبنی ہیں۔