لاہور: پنجاب حکومت نے سموگ سیزن سے قبل فضائی آلودگی کے بڑے ذرائع کو محدود کرنے کے لیے پیشگی اقدامات تیز کر دیے ہیں۔ سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کے مطابق متعلقہ محکموں کو صوبے بھر میں متحرک کیا گیا ہے اور ایک ہی دن میں 1,122 کلومیٹر سڑکوں پر پانی کا چھڑکاؤ کیا گیا، جبکہ گردوغبار کم کرنے کے لیے 219 روڈ شولڈرز کی مرمت بھی کی گئی۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق حکومت کا موجودہ زور اس بات پر ہے کہ سردیوں میں فضائی معیار شدید خراب ہونے سے پہلے سڑکوں، تعمیراتی سرگرمیوں اور دیگر گرد پیدا کرنے والے مقامات سے اٹھنے والے ذرات کو کم کیا جائے۔ پانی کا چھڑکاؤ اور کچے یا ٹوٹے کناروں کی مرمت انہی اقدامات کا حصہ ہیں، کیونکہ خشک مٹی اور سڑک کناروں سے اٹھنے والی دھول شہری فضائی آلودگی میں اضافہ کر سکتی ہے۔
اس سے قبل پنجاب کے انوائرنمنٹ پروٹیکشن ایجنسی نے بھی پری سموگ تیاریوں کے سلسلے میں فیلڈ افسران کو جامع معائنوں اور آلودگی کے بڑے ذرائع کے خلاف کارروائی کی ہدایات دی تھیں۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق ان ہدایات میں دھواں چھوڑنے والے صنعتی یونٹس، اینٹوں کے بھٹے، تعمیراتی مقامات، پتھر کرشنگ یونٹس اور زیادہ دھواں خارج کرنے والی گاڑیوں کی نگرانی شامل ہے۔ غیر معیاری اینٹوں کے بھٹوں کے خلاف کارروائی اور صنعتوں میں اخراج کنٹرول نظام کی جانچ کو بھی ترجیح دی جا رہی ہے۔
محکمہ ماحولیات کی حکمتِ عملی میں ضلع کی سطح پر انتظامیہ، ٹریفک، ٹرانسپورٹ اور لوکل گورنمنٹ اداروں کے درمیان رابطہ بڑھانے پر زور دیا گیا ہے تاکہ آلودگی کے مختلف ذرائع پر بیک وقت کام کیا جا سکے۔ تعمیراتی سامان کی کھلی نقل و حمل، مٹی اور ملبے سے گرد اٹھنے اور صنعتی اخراج کی نگرانی بھی اس پیشگی مرحلے کا حصہ ہے۔
پنجاب، خصوصاً لاہور اور وسطی اضلاع، ہر سال موسمِ سرما میں سموگ کے شدید ادوار کا سامنا کرتے ہیں۔ موجودہ اقدامات کو حکومت نے ایک احتیاطی مرحلہ قرار دیا ہے جس کا مقصد آلودگی کی شدت بڑھنے سے پہلے اخراج اور گرد کے ذرائع پر قابو پانا ہے۔ تاہم ان اقدامات کے حقیقی اثرات کا اندازہ فضائی معیار کے مسلسل ڈیٹا، نفاذ کی رفتار اور مختلف اضلاع میں ماحولیاتی قوانین پر عمل درآمد سے ہی ہو سکے گا۔
آج جاری کردہ اعداد و شمار مخصوص ایک روزہ کارروائی کی نمائندگی کرتے ہیں اور یہ پورے سموگ سیزن کے نتائج نہیں ہیں۔ حکومت نے متعلقہ محکموں کو متحرک رکھنے کا کہا ہے، جبکہ آئندہ ہفتوں میں صنعتی، ٹرانسپورٹ اور تعمیراتی شعبوں کے خلاف نفاذی کارروائیوں کی پیش رفت سموگ کنٹرول حکمتِ عملی کی اہم آزمائش ہوگی۔




