لاہور: پنجاب حکومت نے پنک سالٹ ویلیو ایڈیشن فنانسنگ اسکیم کا آغاز کردیا ہے جس کے تحت مجموعی طور پر 5 ارب روپے کے بلاسود قرضے فراہم کیے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اسکیم کے آغاز پر ابتدائی 10 کاروباری افراد میں قرضوں کے چیک تقسیم کیے اور مقامی پنک سالٹ کو خام مال کے بجائے ویلیو ایڈڈ پاکستانی مصنوعات کی صورت عالمی منڈی میں متعارف کرانے پر زور دیا۔

صوبائی حکام کی بریفنگ کے مطابق ایک کاروبار زیادہ سے زیادہ 5 کروڑ روپے تک فنانسنگ حاصل کرسکے گا۔ حکومت پنجاب اسکیم کے تحت سود کی مد میں 1.456 ارب روپے کا بوجھ خود برداشت کرے گی۔ پروگرام کا مقصد پروسیسنگ، پیکجنگ، برانڈنگ اور نئی مصنوعات کی تیاری کے لیے سرمایہ تک رسائی بڑھانا ہے۔

قائدآباد میں 110 ایکڑ پر پنک سالٹ پروسیسنگ یونٹ کو خصوصی صنعتی کلسٹر کے طور پر قائم کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق مجوزہ پنک سالٹ منرل پروسیسنگ زون میں 200 ویلیو ایڈیشن یونٹس رکھنے اور 10 ہزار سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا منصوبہ ہے۔

ایک ماڈل ریٹیل آؤٹ لیٹ بھی قائم کیا گیا ہے تاکہ برانڈنگ، پیکجنگ، مارکیٹنگ اور پروسیسنگ کو فروغ دیا جاسکے۔ حکام نے اندازہ ظاہر کیا کہ ویلیو ایڈیشن سے سالانہ برآمدات میں 300 ملین ڈالر تک اضافہ ممکن ہوسکتا ہے، تاہم یہ سرکاری تخمینہ ہے اور اصل نتیجہ سرمایہ کاری، پیداوار، عالمی طلب اور برآمدی رسائی پر منحصر ہوگا۔

پاکستان کا گلابی نمک بین الاقوامی منڈی میں فروخت ہوتا ہے، لیکن حکومت کا نیا پروگرام زیادہ قدر والی تیار مصنوعات کی مقامی تیاری پر توجہ دے رہا ہے۔ اس سے خام معدنی برآمد کے مقابلے میں مقامی پروسیسنگ اور کاروباری سرگرمی بڑھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

اسکیم کی کامیابی کا عملی پیمانہ قرضوں کی تقسیم، قائم ہونے والے فعال یونٹس، نئی ملازمتوں اور حقیقی برآمدی آمدن سے واضح ہوگا۔ فی الحال 5 ارب روپے کی بلاسود فنانسنگ اور فی کاروبار 5 کروڑ روپے تک حد پروگرام کے بنیادی مالی خدوخال ہیں۔