پاکستان ورچوئل اثاثہ ریگولیٹری اتھارٹی، پی وی اے آر اے، کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے اقوام متحدہ کی 81ویں جنرل اسمبلی کے موقع پر ہونے والے سوشل بزنس، یوتھ اینڈ ٹیکنالوجی فورم میں کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت اور ٹوکنائزیشن ترقی پذیر دنیا میں مالی شمولیت کو تیز کرنے کے مؤثر ذرائع بن سکتے ہیں، بشرطیکہ ان تک رسائی صرف پہلے سے بینکاری نظام کا حصہ لوگوں تک محدود نہ رہے۔
22 ستمبر 2026 کو نیویارک میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے عالمی مالیاتی نظام میں آنے والی تیز تبدیلیوں کے تناظر میں ابھرتی معیشتوں کے لیے قواعد، ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے اور رسائی کی اہمیت پر زور دیا۔ فورم میں عالمی رہنماؤں اور پالیسی سازوں نے غربت، نوجوانوں، ٹیکنالوجی اور مالی خدمات کے موضوعات پر گفتگو کی۔ بلال بن ثاقب نے اس بحث میں پاکستان کے ورچوئل اثاثہ ریگولیٹری فریم ورک کو ایک مثال کے طور پر پیش کیا۔
تقریب میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق دنیا میں تقریباً 1.3 ارب بالغ افراد کسی مالیاتی ادارے میں اکاؤنٹ نہیں رکھتے، تاہم ان میں سے لگ بھگ 90 کروڑ کے پاس موبائل فون موجود ہے۔ بلال بن ثاقب کا مؤقف تھا کہ اس فرق کی وجہ صرف ٹیکنالوجی کی عدم دستیابی نہیں بلکہ قابلِ اعتماد ادائیگی نظام، ضابطہ کاری اور رسائی کے واضح قواعد کی کمی بھی ہے۔
پاکستان نے 2026 میں ورچوئل اثاثہ قانون منظور کر کے اس شعبے کے لیے نیا ریگولیٹری فریم ورک قائم کیا، جس کے بعد ریگولیٹری سینڈ باکس اور ورچوئل اثاثہ سروس فراہم کرنے والوں کے لیے لائسنسنگ قواعد متعارف کرائے گئے۔ پی وی اے آر اے کے مطابق مقصد یہ ہے کہ ڈیجیٹل اثاثوں سے متعلق سرگرمیوں کو مکمل طور پر غیر رسمی یا غیر منظم ماحول میں چھوڑنے کے بجائے نگرانی، صارف تحفظ اور قانونی تقاضوں کے دائرے میں لایا جائے۔
عالمی سطح پر کرپٹو اور ٹوکنائزڈ فنانس کے بارے میں پالیسی اختلافات بدستور موجود ہیں۔ حامی انہیں کم لاگت سرحد پار ادائیگی، سرمایہ تک رسائی اور نئی مالیاتی مصنوعات کے لیے مفید سمجھتے ہیں، جبکہ نگران ادارے منی لانڈرنگ، دھوکہ دہی، مارکیٹ اتار چڑھاؤ اور صارف تحفظ کے خطرات کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اس تناظر میں بلال بن ثاقب نے ٹیکنالوجی اور ضابطہ کاری کو ایک دوسرے کا متبادل نہیں بلکہ لازم و ملزوم قرار دیا۔
فورم میں ان کی تقریر کسی نئی بین الاقوامی پابند پالیسی کا اعلان نہیں تھی، بلکہ پاکستان کی موجودہ ریگولیٹری سمت اور گلوبل ساؤتھ میں ڈیجیٹل مالی شمولیت سے متعلق ایک پالیسی مؤقف تھا۔
