راولپنڈی: پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی، پی ایچ اے، راولپنڈی نے 236 یومیہ اجرت ملازمین کی خدمات ختم کر دی ہیں۔ ادارے کے حکام نے اس فیصلے کی بنیادی وجہ پنجاب حکومت سے ملنے والی سالانہ مالی معاونت میں نمایاں کمی بتائی ہے، جبکہ ملازمین کی نمائندہ یونینوں نے برطرفیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کارکنوں کی فوری بحالی، بقایا ادائیگیوں اور ملازمت کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔

پی ایچ اے کے ایک سینئر افسر کے مطابق اتھارٹی کو پہلے سالانہ 37 کروڑ 30 لاکھ روپے صوبائی فنڈ ملتا تھا، جو کم ہو کر 25 کروڑ 20 لاکھ روپے رہ گیا ہے۔ یوں دستیاب مالی معاونت میں 12 کروڑ 10 لاکھ روپے کی کمی ہوئی۔ افسر نے بتایا کہ ادارے میں مجموعی طور پر 900 سے زیادہ کارکن کام کر رہے تھے اور فنڈز میں کمی کے بعد 236 ڈیلی ویجرز کی خدمات فوری طور پر ختم کرنا پڑیں۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مستقل ملازمین میں سے کسی کو نہیں نکالا گیا۔ پی ایچ اے کے ڈائریکٹر جنرل احمد حسن رانجھا کے مطابق متاثرہ افراد عارضی بنیاد پر اور ضرورت کے تحت تین ماہ کے لیے رکھے گئے تھے۔ ان کا مؤقف ہے کہ فنڈز کم ہونے کی وجہ سے ان کی مدت یا خدمات جاری رکھنا ممکن نہیں رہا۔ یہ انتظامیہ کی وضاحت ہے؛ ہر کارکن کی تقرری، مدت اور قابلِ ادائیگی واجبات کا حتمی تعین اس کے انفرادی ریکارڈ اور متعلقہ ملازمت قواعد سے ہوگا۔

پی ایچ اے کے افسران نے بتایا کہ ادارے کے پاس اپنی مستقل آمدن کا مؤثر ذریعہ نہیں اور اس کا بڑا انحصار صوبائی حکومت کی گرانٹ پر ہے۔ اتھارٹی نے پنجاب حکومت کو خط لکھ کر مالی معاونت بڑھانے کی درخواست کی ہے۔ موجودہ عملہ کم ہونے کے باعث باقی کارکنوں سے اضافی وقت کام لینے کا امکان ظاہر کیا گیا، تاہم اضافی اوقات، اجرت یا ذمہ داریوں کے تفصیلی انتظام کا اعلان نہیں کیا گیا۔

حکام کے مطابق راولپنڈی میں کچہری چوک اور رنگ روڈ سمیت بعض ترقیاتی کاموں میں پی ایچ اے نے شجرکاری اور خوب صورتی کے فرائض انجام دیے، لیکن ادارے کو ان منصوبوں سے توقع سے کم مالی حصہ ملا۔ ایک افسر نے تقریباً ایک فیصد حصہ ملنے کا حوالہ دیا۔ دستیاب رپورٹ میں اس ادائیگی کی مکمل رقم، معاہدے یا بقایا حصے کی تفصیلی سرکاری دستاویز شامل نہیں، اس لیے اسے پی ایچ اے اہلکار کا بیان سمجھا جانا چاہیے۔

برطرف کارکنوں اور مختلف سی بی اے یونینوں نے راولپنڈی پریس کلب کے باہر احتجاج کیا۔ پی ایچ اے اسٹاف ورکرز یونین کے نمائندوں نے کہا کہ اچانک ملازمت ختم ہونے سے متاثرہ خاندانوں کے روزگار پر براہِ راست اثر پڑا ہے۔ مظاہرین نے 236 ملازمین کی بحالی، واجبات کی ادائیگی اور آئندہ ملازمت کے لیے واضح ضمانت کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں احتجاج کا دائرہ بڑھانے کا اعلان بھی کیا۔

یونین کا مؤقف ہے کہ طویل عرصے سے عملی خدمات انجام دینے والے کارکنوں کو محض عارضی حیثیت کی بنیاد پر اچانک فارغ نہیں کیا جانا چاہیے۔ دوسری جانب انتظامیہ ان افراد کو ضرورت کے مطابق محدود مدت کے لیے بھرتی شدہ ڈیلی ویجرز قرار دیتی ہے۔ دونوں مؤقفوں کے درمیان قانونی فرق تقرری خطوط، حاضری و اجرت ریکارڈ، ملازمت کی اصل مدت اور قابلِ اطلاق صوبائی قواعد سے واضح ہوگا۔

فیصلے کے بعد شہری پارکوں، گرین بیلٹس، شجرکاری اور صفائی و دیکھ بھال کے معمولات پر ممکنہ اثر بھی زیرِ بحث ہے۔ انتظامیہ نے کہا ہے کہ موجودہ مستقل و باقی عارضی عملے سے کام جاری رکھا جائے گا، مگر کسی مقام پر خدمات کم کرنے یا نئے انتظامی شیڈول کی تفصیل جاری نہیں کی گئی۔ اسی طرح صوبائی حکومت کی جانب سے اضافی فنڈ منظور یا مسترد کیے جانے کی خبر بھی ابھی سامنے نہیں آئی۔

تصدیق شدہ فوری صورتِ حال یہ ہے کہ پی ایچ اے راولپنڈی نے 236 یومیہ اجرت ملازمین کی خدمات ختم کر دی ہیں، ادارہ فنڈ میں اضافے کے لیے پنجاب حکومت سے رجوع کر چکا ہے اور مزدور یونینیں بحالی کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ آئندہ پیش رفت اضافی گرانٹ، انتظامیہ و یونین مذاکرات، انفرادی ملازمت ریکارڈ اور کسی ممکنہ قانونی یا محکمانہ کارروائی سے طے ہوگی۔