بخارسٹ: رومانیہ میں تقریباً پانچ ماہ سے جاری سیاسی تعطل اور نئی حکومت کی تشکیل میں ناکامی نے ملک کی سرمایہ کاری درجے کی کریڈٹ ریٹنگ پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق سیاسی غیر یقینی ایسے وقت میں برقرار ہے جب عوامی قرض تیزی سے بڑھ رہا ہے اور مالی خسارے کو قابو میں رکھنے کے لیے واضح پالیسی سمت کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔
رومانیہ یورپی یونین کی ان معیشتوں میں شامل ہے جہاں حالیہ برسوں میں بجٹ خسارہ اور قرض دونوں پالیسی سازوں کے لیے اہم مسئلہ بنے ہیں۔ حکومت کی عدم تشکیل سے بجٹ اصلاحات، ٹیکس پالیسی اور اخراجات میں تبدیلی جیسے فیصلے مؤخر ہو سکتے ہیں، جس سے قرض لینے کی لاگت اور سرمایہ کاروں کے اعتماد پر اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔
کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیاں عام طور پر حکومتی استحکام، قرض کی رفتار، مالی خسارے، اقتصادی نمو اور ادارہ جاتی صلاحیت کو اپنی درجہ بندی میں اہم عوامل کے طور پر دیکھتی ہیں۔ ایس اینڈ پی کے آئندہ جائزے سے پہلے رومانیہ کی سیاسی صورتحال اسی لیے مارکیٹ کی توجہ کا مرکز ہے۔ سرمایہ کاری درجے کی ریٹنگ برقرار رہنا سرکاری قرض کے لیے نسبتاً بہتر مالی شرائط میں مدد دیتا ہے، جبکہ کسی منفی تبدیلی سے قرض کی لاگت بڑھ سکتی ہے۔
سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلاف نے نئی انتظامیہ کی تشکیل مشکل بنا دی ہے، جس کے باعث مالی اصلاحات کے لیے درکار پارلیمانی حمایت بھی غیر یقینی ہے۔ اس تعطل کا فوری مطلب یہ نہیں کہ ریٹنگ لازماً کم ہوگی؛ حتمی فیصلہ ریٹنگ ایجنسی کے اپنے تجزیے اور تازہ مالی و سیاسی اعداد پر منحصر ہوگا۔
رومانیہ کے لیے بنیادی چیلنج یہ ہے کہ سیاسی اتفاق رائے قائم کر کے ایسی حکومت بنائی جائے جو بجٹ خسارے کو قابل اعتبار انداز میں کم کرنے، قرض کی رفتار محدود کرنے اور اقتصادی نمو کو نقصان پہنچائے بغیر مالی استحکام بہتر کرنے کا منصوبہ پیش کر سکے۔ آنے والا ریٹنگ جائزہ سرمایہ کاروں کو اس بات کا اہم اشارہ دے گا کہ بیرونی ادارے موجودہ خطرات کو کس سطح پر دیکھ رہے ہیں۔
