کیف: یوکرین کے اوڈیسا خطے میں بحیرہ اسود کی ایک بندرگاہ پر روسی حملے کے دوران لائبیریا کے پرچم تلے چلنے والا کارگو جہاز نشانہ بنا، جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور تین زخمی ہوگئے۔ یوکرینی سی پورٹس انتظامیہ نے کہا کہ جہاز پر موجود دیگر 13 عملہ ارکان کو بحفاظت نکال لیا گیا۔

یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب روس اور یوکرین کی جنگ پانچویں سال میں داخل ہو چکی ہے اور بحیرہ اسود کی بندرگاہیں دوبارہ شدید دباؤ میں ہیں۔ یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ روس نے موسم گرما سے بحیرہ اسود کی بندرگاہوں پر مؤثر ناکہ بندی اور حملوں میں اضافہ کیا ہے، جس سے ملک کے اہم تجارتی راستے متاثر ہو رہے ہیں۔

یوکرین کی معیشت کے لیے بحیرہ اسود کے راستے اناج، فولاد اور دیگر برآمدات انتہائی اہم ہیں۔ بندرگاہی تنصیبات یا تجارتی جہازوں پر حملوں سے نہ صرف براہ راست جانی اور مالی نقصان ہوتا ہے بلکہ انشورنس اخراجات، جہاز رانی کی دستیابی اور برآمدی حجم پر بھی اثر پڑتا ہے۔ حالیہ حملہ اسی وسیع معاشی اور سکیورٹی دباؤ کا حصہ ہے۔

یوکرینی سی پورٹس انتظامیہ نے ابتدائی بیان میں ہلاک اور زخمی افراد کی قومیتوں یا جہاز کے مکمل کارگو کی تفصیل نہیں دی۔ روسی حکام کی جانب سے اس مخصوص جہاز کو نشانہ بنانے کے بارے میں فوری تفصیلی مؤقف رپورٹ میں شامل نہیں تھا۔ ماسکو ماضی میں شہریوں کو منظم طور پر نشانہ بنانے کی تردید کرتا رہا ہے، جبکہ یوکرین روس پر شہری اور تجارتی انفراسٹرکچر پر حملوں کا الزام لگاتا ہے۔

بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے بحیرہ اسود کی صورتحال جنگ کے آغاز سے ہی اہم خطرہ رہی ہے۔ کسی غیر ملکی پرچم بردار تجارتی جہاز کا متاثر ہونا اس تنازع کے سرحد پار معاشی اور بحری اثرات کو نمایاں کرتا ہے۔ حملے کی مکمل نوعیت، استعمال ہونے والے ہتھیار اور جہاز کو پہنچنے والے مجموعی نقصان کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔