کیف: روسی حملوں کی نئی لہر میں یوکرین کے دارالحکومت کیف کے ناردرن برج کو نقصان پہنچا ہے، جبکہ یوکرینی حکام نے ملک کے مختلف علاقوں میں کم از کم چھ افراد کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق یہ دو دن کے اندر کیف کے دوسرے بڑے پل پر حملہ ہے، جس سے دارالحکومت کے اہم ٹرانسپورٹ رابطوں پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوا ہے۔

کیف کے پل پر حملہ ایسے وقت ہوا جب یوکرین موسم سرما سے پہلے توانائی، ٹرانسپورٹ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کے لیے تیاری کر رہا ہے۔ حکام نے پل کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ شروع کر دیا ہے اور متاثرہ راستوں پر ٹریفک اور مرمت سے متعلق اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ فوری طور پر یہ واضح نہیں کہ پل کو مکمل طور پر بحال کرنے میں کتنا وقت لگے گا۔

اسی دوران خارکیف اور دیگر علاقوں میں بھی روسی فضائی حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔ مقامی حکام نے رہائشی علاقوں میں جانی نقصان کی تصدیق کی اور امدادی ٹیموں نے متاثرہ مقامات پر کارروائیاں کیں۔ ہلاکتوں اور نقصان کے اعداد و شمار جنگی حالات میں تبدیل ہو سکتے ہیں، اس لیے ابتدائی سرکاری تعداد کو تازہ ترین دستیاب تخمینہ سمجھا جانا چاہیے۔

دو دن میں کیف کے دو بڑے پلوں کو نشانہ بنائے جانے کو یوکرینی حکام شہری نقل و حرکت اور رسد میں خلل ڈالنے کی کوشش کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ روسی حکام کی جانب سے ہر مخصوص حملے کے ہدف اور مقصد کے بارے میں فوری تفصیلی بیان دستیاب نہیں تھا۔ جنگ کے دونوں فریق اکثر حملوں کے مقاصد اور نتائج کے بارے میں مختلف مؤقف پیش کرتے ہیں، اس لیے آزادانہ تصدیق خصوصاً فعال جنگی علاقوں میں محدود رہتی ہے۔

روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ میں توانائی، ٹرانسپورٹ اور دیگر بنیادی ڈھانچہ بار بار حملوں کی زد میں آیا ہے۔ تازہ حملے نے ایک بار پھر شہری تحفظ اور اہم تنصیبات کی مزاحمتی صلاحیت کو مرکزی مسئلہ بنا دیا ہے۔ یوکرینی حکام نے شہریوں سے فضائی حملے کے انتباہات پر عمل کرنے کی اپیل کی ہے جبکہ نقصان کی مرمت اور متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔