ماسکو: روس کے مرکزی الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ پارلیمانی انتخابات میں 95 فیصد سے زیادہ ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد حکمران یونائیٹڈ رشیا جماعت 57.83 فیصد ووٹ کے ساتھ نمایاں برتری رکھتی ہے۔ یہ جماعت صدر ولادیمیر پیوٹن کی حمایت کرتی ہے اور ابتدائی سرکاری حساب کے مطابق 450 رکنی ریاستی دوما میں 355 نشستیں حاصل کر سکتی ہے۔
کمیشن کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق یونائیٹڈ رشیا کا ووٹ شیئر 2021 کے گزشتہ دوما انتخابات کے 49.8 فیصد سے بڑھا ہے۔ اگر اعلان کردہ نشستوں کی تقسیم برقرار رہتی ہے تو جماعت ایوان زیریں میں اپنی آئینی اکثریت برقرار رکھے گی، یعنی اسے ایسی قانون سازی کے لیے درکار دو تہائی طاقت حاصل رہے گی جس کے لیے عام اکثریت سے زیادہ حمایت ضروری ہوتی ہے۔
رائٹرز کے مطابق صدر پیوٹن نے انتخاب کو یوکرین میں جاری جنگ کے دوران حکومتی پالیسیوں کے لیے عوامی حمایت کے ایک اہم سیاسی امتحان کے طور پر پیش کیا تھا۔ تاہم انتخابی نتیجے کی تشریح پر مختلف آرا موجود ہیں۔ روسی حکام نتائج کو حکمران جماعت کی وسیع حمایت کا ثبوت قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین روس کے سیاسی ماحول، امیدواروں پر پابندیوں اور جنگ مخالف آوازوں کے لیے محدود گنجائش کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔
انتخابی عمل کے دوران سائبر حملوں اور ڈرون واقعات کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ دستیاب رپورٹنگ کے مطابق جنگ کی مخالفت کرنے والی بعض سیاسی قوتوں کو انتخابی میدان میں جگہ نہیں ملی، اور یابلوکو جماعت کو بھی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد انتخاب سے باہر کر دیا گیا تھا۔ ان عوامل کی وجہ سے انتخابی مسابقت اور سیاسی نمائندگی کے معیار پر بحث جاری رہنے کا امکان ہے۔
مرکزی الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار ابھی اس مرحلے کی تصویر پیش کرتے ہیں جب 95 فیصد سے زائد ووٹ گنے جا چکے تھے۔ حتمی سرکاری نتائج اور نشستوں کی مکمل تصدیق انتخابی ادارے کے باضابطہ عمل کے بعد ہوگی۔ اس لیے 57.83 فیصد ووٹ اور 355 نشستوں کے اعداد کو قریباً مکمل گنتی کے سرکاری تخمینے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، نہ کہ اس رپورٹ کے وقت تک مکمل قانونی توثیق شدہ حتمی نتیجہ۔
روس کی ریاستی دوما قانون سازی کا مرکزی ایوان زیریں ہے۔ حکمران جماعت کی آئینی اکثریت برقرار رہنے کی صورت میں حکومت کو اہم قانون سازی اور آئینی نوعیت کے اقدامات میں مضبوط پارلیمانی پوزیشن حاصل رہے گی، جبکہ حزب اختلاف کی عملی اثراندازی محدود رہے گی۔
