کیف: یوکرین کے دارالحکومت کیف میں روسی فضائی حملے کے دوران دریائے دنیپرو پر واقع ناردرن برج کو نقصان پہنچا، جس کے بعد پل پر مشرقی سے مغربی کنارے کی جانب ٹریفک عارضی طور پر معطل کردی گئی۔ کیف کے میئر وٹالی کلیچکو نے بتایا کہ حملے سے سڑک کی سطح اور اوپر موجود ٹرالی بس کیبلز متاثر ہوئیں، جبکہ ہنگامی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں۔ ابتدائی اطلاعات میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
یہ حملہ دارالحکومت کے اہم ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر پر مسلسل دباؤ کے دوران ہوا ہے۔ گزشتہ دو دنوں میں سدرن برج بھی متعدد روسی ڈرون حملوں سے متاثر ہوا، جس کے باعث اسے اور دنیپرو پر واقع بعض دیگر پلوں کو عارضی طور پر بند کرنا پڑا۔ کیف کے لیے یہ پل روزمرہ نقل و حرکت اور شہری معیشت کے لیے انتہائی اہم ہیں۔
جنگ سے پہلے کیف کی تقریباً 30 لاکھ آبادی کا ایک تہائی سے زیادہ حصہ دریائے دنیپرو کے مشرقی، یا بائیں کنارے، پر رہتا تھا، جبکہ بیشتر سرکاری ادارے، کاروباری مراکز اور ملازمتیں مغربی کنارے پر واقع ہیں۔ اسی وجہ سے پلوں کی بندش ہزاروں شہریوں کی روزمرہ آمدورفت، ہنگامی خدمات اور شہر کے لاجسٹک نظام کو فوری طور پر متاثر کر سکتی ہے۔
یوکرینی حکام حالیہ حملوں کو موسم سرما سے قبل توانائی اور شہری انفراسٹرکچر پر ممکنہ نئی روسی بمباری کی مہم کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ گزشتہ موسم سرما میں بجلی اور حرارتی نظام پر حملوں کے باعث کیف اور دیگر شہروں میں بڑے پیمانے پر مشکلات پیدا ہوئی تھیں۔ روس ماضی میں شہریوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تردید کرتا رہا ہے۔
ناردرن برج کو پہنچنے والے نقصان کی مکمل مرمت اور ٹریفک کی بحالی کا وقت فوری طور پر واضح نہیں کیا گیا۔ حملے کی نوعیت اور استعمال ہونے والے ہتھیار کے بارے میں بھی ابتدائی بیان میں مکمل تفصیل نہیں دی گئی۔ فی الحال تصدیق شدہ معلومات یہی ہیں کہ پل کی سڑک اور ٹرالی بس انفراسٹرکچر متاثر ہوا اور حفاظتی وجوہات کی بنا پر ٹریفک روک دی گئی۔

