ہیلسنکی: سویڈن کے دفاعی و ٹیکنالوجی گروپ ساب نے خلائی صنعت میں اپنی موجودگی بڑھانے کے لیے تین سویڈش کمپنیوں کے ساتھ تعاون کے معاہدوں کا اعلان کیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق ساب نے ایس ایس سی اسپیس، او ایچ بی سویڈن اور ایرکسن کے ساتھ الگ الگ شراکت داریوں کے ذریعے مختلف ٹیکنالوجیز اور خدمات کو یکجا کر کے مربوط خلائی نظام تیار کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ مواصلات، نیویگیشن، نگرانی اور ابتدائی انتباہ جیسے شعبوں میں خلائی بنیادوں پر چلنے والے حل کی اہمیت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اسی تناظر میں ساب اپنے دفاعی اور سکیورٹی تجربے کو سیٹلائٹ اور زمینی انفراسٹرکچر سے جوڑنا چاہتا ہے تاکہ سویڈن کی مجموعی خلائی صلاحیت کو مضبوط کیا جا سکے۔
رائٹرز کے مطابق تعاون کے معاہدوں میں سیٹلائٹ سسٹمز، لانچ انفراسٹرکچر، گراؤنڈ سروسز، مشن سپورٹ اور کمیونی کیشن ٹیکنالوجیز شامل ہیں۔ ان شعبوں میں مختلف شراکت داروں کی مہارت ایک دوسرے سے مختلف ہے، اس لیے ساب کا منصوبہ کسی ایک کمپنی کی مصنوعات تک محدود رہنے کے بجائے متعدد کمپنیوں کی صلاحیتوں کو ایک جامع نظام میں یکجا کرنا ہے۔
ساب کے اسٹریٹیجی اینڈ ٹیکنالوجی کے سربراہ مارکس وانڈٹ نے کہا کہ دفاع اور سلامتی میں خلائی شعبے کی اہمیت بڑھنے کے ساتھ کمپنی سویڈن کی زیادہ مضبوط اور مربوط صلاحیت میں حصہ ڈالنا چاہتی ہے۔ یہ اعلان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب یورپی ممالک سیٹلائٹ مواصلات، خلائی نگرانی اور محفوظ نیویگیشن کو دفاعی منصوبہ بندی کا زیادہ اہم حصہ بنا رہے ہیں۔
کمپنیوں نے معاہدوں کی مالی تفصیلات ظاہر نہیں کیں، اس لیے یہ واضح نہیں کہ ابتدائی مرحلے میں کتنی سرمایہ کاری کی جائے گی یا کن مخصوص منصوبوں کو ترجیح دی جائے گی۔ موجودہ اعلان بنیادی طور پر تعاون کے دائرہ کار اور مشترکہ سمت کی وضاحت کرتا ہے، جبکہ کسی بڑے ٹھیکے، آمدن یا ترسیل کے شیڈول کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ساب روایتی طور پر لڑاکا طیاروں، ریڈار، نگرانی اور دفاعی نظام سے منسلک ہے، لیکن خلائی خدمات اور مواصلات کا شعبہ اس کے لیے نئی ترقی کی سمت فراہم کر سکتا ہے۔ نئی شراکت داریوں سے کمپنی کو ان شعبوں میں ایسی ٹیکنالوجیز تک رسائی مل سکتی ہے جو زمین، فضا اور خلا میں دفاعی و سکیورٹی نظاموں کے باہمی رابطے کے لیے اہم سمجھی جاتی ہیں۔

