برمنگھم: پاکستان کی ٹیسٹ بیٹنگ انگلینڈ کے خلاف تیسرے میچ کے پہلے روز ایک بار پھر شدید دباؤ میں آ گئی اور پوری ٹیم ایجبسٹن میں صرف 133 رنز پر آؤٹ ہوگئی۔ یہ سیریز میں مسلسل پانچویں پاکستانی اننگز تھی جس میں ٹیم 200 رنز تک نہ پہنچ سکی۔ دن کے اختتام پر انگلینڈ نے چار وکٹوں پر 156 رنز بنا کر 23 رنز کی برتری حاصل کر لی۔

پاکستان کی جانب سے سعود شکیل 43 رنز کے ساتھ نمایاں رہے۔ میچ کے بعد انہوں نے کہا کہ انگلینڈ میں اس سیریز کے دوران گیند کی غیر معمولی سائیڈ موومنٹ اور ابتدائی نمی نے بیٹنگ کو مشکل بنایا، لیکن انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی تسلیم کیا کہ پاکستانی بیٹرز بار بار ایک ہی غلطی دہرا رہے ہیں اور مختصر وقفے میں کئی وکٹیں گنوا دیتے ہیں۔ ان کے مطابق بعض آؤٹ ہونے کے انداز نرم تھے اور بیٹنگ یونٹ کو اپنی ذمہ داری قبول کرنا ہوگی۔

انگلینڈ نے ابر آلود موسم میں پہلے بولنگ کا فیصلہ کیا اور پاکستان ابتدائی 10 اوورز میں 26 رنز پر چار وکٹیں کھو بیٹھا۔ صائم ایوب، اذان اویس، عبداللہ شفیق اور شان مسعود جلد آؤٹ ہوئے، جبکہ کپتان بابر اعظم سات رنز بنا سکے اور اسکور 48 پر پانچ وکٹ ہو گیا۔ سعود کے مطابق ابتدائی مرحلہ گزارنا اہم تھا کیونکہ وقت کے ساتھ پچ نسبتاً بہتر ہوئی اور بیٹنگ آسان ہونے لگی۔

پاکستانی بولرز نے جواب میں انگلینڈ کو 39 رنز پر تین وکٹوں تک محدود کر کے واپسی کی امید پیدا کی۔ 21 سالہ فاسٹ بولر رضااللہ نے ٹیسٹ ڈیبیو پر جو روٹ کو آٹھ رنز پر ایل بی ڈبلیو کیا اور بعد میں ایمیلیو گے کو بھی آؤٹ کیا۔ انہوں نے نو اوورز میں 42 رنز دے کر دو وکٹیں حاصل کیں اور رفتار تقریباً 90 میل فی گھنٹہ تک پہنچائی۔ سعود شکیل نے نوجوان فاسٹ بولر کی رفتار کو پاکستان کے لیے حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے کہا کہ کوچنگ اسٹاف اور سینئر کھلاڑیوں کو اس صلاحیت کی درست رہنمائی کرنا ہوگی۔

انگلینڈ کے لیے ہیری بروک اور ایمیلیو گے نے چوتھی وکٹ پر 104 رنز کی شراکت قائم کر کے میزبان ٹیم کو سنبھالا دیا۔ گے 60 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے جبکہ بروک 52 رنز پر ناٹ آؤٹ رہے۔ پاکستان کی اننگز میں جوش ٹنگ نے چار جبکہ اولی رابنسن اور جوفرا آرچر نے تین تین وکٹیں حاصل کیں۔ سعود نے فرنچائز لیگز کو بیٹنگ ناکامیوں کی بنیادی وجہ ماننے سے انکار کیا اور کہا کہ اصل ذمہ داری بیٹنگ گروپ پر ہے۔ پاکستان اب دوسرے روز انگلینڈ کی باقی وکٹیں جلد حاصل کر کے میچ میں واپسی کی کوشش کرے گا۔