ریاض: سعودی عرب یمن کے حوثی گروپ کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے آپشنز پر غور کر رہا ہے، ایسے وقت میں جب بحیرہ احمر اور خطے میں حوثی حملوں نے تجارتی جہاز رانی اور سعودی سکیورٹی کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں مختلف ممکنہ اقدامات زیر غور ہیں، تاہم رپورٹ میں کسی حتمی فوجی آپریشن کے آغاز یا قطعی فیصلے کی تصدیق نہیں کی گئی۔

حوثی گروپ نے حالیہ عرصے میں بحیرہ احمر اور سعودی اہداف سے متعلق حملوں میں اضافہ کیا ہے، جس سے خطے کی سکیورٹی اور عالمی تجارتی راستوں پر دباؤ بڑھا ہے۔ بحیرہ احمر دنیا کی اہم بحری گزرگاہوں میں شامل ہے اور یہاں عدم تحفظ کے باعث جہاز رانی کی لاگت، انشورنس اور سپلائی چین متاثر ہو سکتی ہے۔ سعودی عرب اس سے پہلے بھی یمن کی جنگ میں حوثیوں کے خلاف فوجی اتحاد کی قیادت کر چکا ہے، تاہم حالیہ برسوں میں ریاض نے کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے راستے تلاش کرنے کی کوشش بھی کی تھی۔

رائٹرز کے مطابق موجودہ غور و فکر میں اس بات کا جائزہ شامل ہے کہ حوثی حملوں کو روکنے اور بحیرہ احمر میں نقل و حرکت کو محفوظ بنانے کے لیے کون سے فوجی اور سیاسی آپشنز مؤثر ہو سکتے ہیں۔ اس معاملے کی حساس نوعیت کے باعث تمام ممکنہ منصوبوں کی تفصیلات عوامی طور پر سامنے نہیں آئیں۔ کسی منصوبے پر غور ہونا اور اس پر عمل درآمد کا فیصلہ ہونا دو الگ مراحل ہیں، اس لیے زیر غور فوجی آپشنز کو فوری حملے کا اعلان نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ایران اور حوثیوں کے تعلقات، خطے میں سعودی عرب کے دفاعی انتظامات اور دیگر علاقائی طاقتوں کے کردار پر بھی سفارتی رابطے جاری ہیں۔ پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی الگ طور پر کہا ہے کہ مکہ دفاعی معاہدے کے ارکان حوثی مسئلے پر سیاسی رابطے کے امکان سمیت علاقائی صورتحال پر ہنگامی مشاورت کریں گے۔

یمن میں طویل جنگ نے پہلے ہی بڑے انسانی بحران کو جنم دیا ہے، اس لیے کسی نئی وسیع فوجی کارروائی کے ممکنہ انسانی اور علاقائی اثرات بھی اہم ہوں گے۔ فی الحال تصدیق شدہ نکتہ یہی ہے کہ سعودی قیادت مختلف آپشنز کا جائزہ لے رہی ہے؛ کسی حتمی آپریشن، اس کے وقت یا دائرہ کار کے بارے میں سرکاری اعلان سامنے نہیں آیا۔