سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے درمیان قائم مکہ مشترکہ دفاعی اتحاد کا مقصد خطے میں استحکام کو مضبوط کرنا اور کشیدگی و تنازعات کے اثرات سے بچاؤ کے لیے تعاون کو منظم کرنا ہے۔ انہوں نے یہ بات سعودی شوریٰ کونسل کے نویں اجلاس کے تیسرے سال کے افتتاح پر شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی جانب سے سالانہ شاہی خطاب پیش کرتے ہوئے کہی۔

ولی عہد کے مطابق خلیجی سلامتی اور استحکام باہم جڑے ہوئے ہیں اور سعودی عرب اپنے شراکت داروں کے ساتھ مشترکہ دفاع، تزویراتی تعاون اور علاقائی ہم آہنگی بڑھانے پر کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ اسی وسیع کوشش کا حصہ ہے جس کے ذریعے خطے کو بڑھتی ہوئی کشیدگی اور مسلح تنازعات کے نتائج سے محفوظ رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

سعودی عرب، پاکستان اور ترکی نے اگست میں مشترکہ دفاعی معاہدہ کیا تھا۔ رکن ممالک اسے دفاعی نوعیت کا انتظام قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ کسی مخصوص ریاست کے خلاف نہیں۔ معاہدے کے مکمل متن اور تمام عملی کمانڈ و آپریشنل تفصیلات عوامی طور پر جاری نہیں کی گئی ہیں، جبکہ پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف پہلے بتا چکے ہیں کہ اتحاد کا سیکریٹریٹ اور ادارہ جاتی ڈھانچہ تشکیل دیا جا رہا ہے۔

سعودی ولی عہد نے اپنے خطاب میں خلیجی ریاستوں کی سلامتی کو ناقابل تقسیم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریاض کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل کی حمایت کے لیے کوششیں جاری رکھے گا، تاہم سعودی سلامتی کو درپیش خطرات کا جواب دینے کی صلاحیت بھی برقرار رکھی جائے گی۔ انہوں نے ایک کثیر ملکی بحری دفاعی انتظام کا بھی ذکر کیا جس کا مقصد بین الاقوامی سمندری راستوں کی سلامتی اور مشترکہ مفادات کا تحفظ بتایا گیا۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خلیج اور بحیرہ احمر کے گرد سلامتی کی صورتحال کشیدہ ہے اور میزائل، ڈرون اور بحری حملوں کے باعث تجارتی راستوں اور علاقائی دفاعی تعاون پر توجہ بڑھی ہے۔ پاکستان نے بھی مکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کے دفاع سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کا اعادہ کیا ہے، تاہم عملی فوجی تعاون کی تمام تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔

ولی عہد کا تازہ بیان اتحاد کے سیاسی اور تزویراتی مقصد کی سعودی تشریح واضح کرتا ہے، لیکن معاہدے کی مخصوص آپریشنل حدود، فیصلہ سازی کے طریقہ کار اور ممکنہ مشترکہ کارروائیوں کے ضابطے کے بارے میں مزید سرکاری تفصیلات ابھی سامنے آنا باقی ہیں۔