سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان اور متحدہ عرب امارات کے نائب صدر شیخ منصور بن زاید آل نہیان نے 29 ستمبر کو ریاض میں ملاقات کی ہے۔ ڈان میں شائع ہونے والی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق سعودی سرکاری میڈیا نے بتایا کہ دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات اور خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات میں سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان بھی شریک تھے۔

سعودی پریس ایجنسی کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا کہ بات چیت کا محور دونوں خلیجی ممالک کے باہمی تعلقات اور علاقائی پیش رفت رہی۔ یہ ملاقات ایسے وقت ہوئی ہے جب سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان یمن سمیت بعض علاقائی معاملات پر گزشتہ عرصے میں اختلافات کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں، جبکہ حالیہ مہینوں میں دونوں ملکوں کے اعلیٰ حکام نے تعاون اور قریبی تعلقات پر زور دینے والے بیانات بھی دیے ہیں۔

اے ایف پی کے مطابق گزشتہ دسمبر میں سعودی عرب نے ابوظبی پر جنوبی یمن کے علیحدگی پسندوں کی حمایت کے حوالے سے اپنی قومی سلامتی سے متعلق تحفظات ظاہر کیے تھے۔ یہ سعودی حکومت کا اس وقت کا الزام تھا اور اس معاملے پر دونوں ملکوں کے مؤقف میں اختلاف رپورٹ ہوا۔ جولائی کے دوران سعودی اور اماراتی حکام کی جانب سے دوستی اور اتحاد کے پیغامات سامنے آئے، جنہیں تعلقات میں بہتری کے اشارے کے طور پر دیکھا گیا۔

موجودہ ملاقات کا علاقائی پس منظر بھی اہم ہے۔ رپورٹ کے مطابق یمن میں حوثی گروپ کی کارروائیوں، بحیرہ احمر میں جہاز رانی اور سعودی تنصیبات پر حملوں کے باعث ریاض نے حالیہ ہفتوں میں بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ سفارتی رابطے بڑھائے ہیں۔ سعودی عرب اور امارات دونوں یمن، سوڈان اور ہارن آف افریقہ میں مختلف سیاسی اور سکیورٹی مفادات رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے بعض معاملات پر ان کی ترجیحات ایک دوسرے سے مختلف رہی ہیں۔

ملاقات کے بعد فوری طور پر کسی نئے معاہدے، مشترکہ فوجی اقدام یا مخصوص پالیسی تبدیلی کا اعلان نہیں کیا گیا۔ دستیاب سرکاری بیان بنیادی طور پر دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال کے جائزے تک محدود ہے۔ اس لیے اسے کسی بڑے سفارتی تصفیے یا پالیسی موڑ کے طور پر بیان کرنا قبل از وقت ہوگا۔

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات خلیج کی دو اہم معیشتیں اور علاقائی طاقتیں ہیں۔ ان کے باہمی تعلقات توانائی، تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی سلامتی پر اثر رکھتے ہیں۔ ریاض ملاقات کے بعد آئندہ سرکاری بیانات اور عملی تعاون سے واضح ہوگا کہ حالیہ رابطہ دوطرفہ تعلقات میں کس نوعیت کی پیش رفت میں تبدیل ہوتا ہے۔