ریاض: سعودی عرب نے ایسٹ-ویسٹ خام تیل پائپ لائن کی بحالی کے بعد بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع سے تیل کی لوڈنگ دوبارہ شروع کر دی ہے۔ رائٹرز کے مطابق سعودی آرامکو نے اپنے صارفین کو اکتوبر کے لیے ینبع سے لوڈنگ شیڈول سے آگاہ کیا، جبکہ ایک ایشیائی ریفائننگ ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے ینبع سے ایک کارگو بھی لوڈ کیا گیا۔
پائپ لائن اور ینبع سے برآمدی سرگرمی میں تعطل 11 ستمبر کے ڈرون حملوں کے بعد آیا تھا۔ سعودی عرب نے ان حملوں کا الزام عراق میں موجود مسلح گروہوں پر عائد کیا تھا۔ حملوں کے بعد پائپ لائن بند کر دی گئی اور ینبع سے خام تیل کی برآمدات متاثر ہوئیں۔ رپورٹ کے مطابق پائپ لائن کی کارروائیاں گزشتہ ہفتے دوبارہ شروع ہو گئیں، جس کے بعد آرامکو نے بحیرہ احمر کے راستے لوڈنگ بحال کرنے کی تیاری مکمل کی۔
ینبع سعودی عرب کے لیے ایک اہم تیل برآمدی مقام ہے کیونکہ ایسٹ-ویسٹ پائپ لائن خلیج کے مشرقی پیداواری علاقوں سے خام تیل کو بحیرہ احمر تک پہنچاتی ہے۔ یہ راستہ مملکت کو اپنی برآمدی رسد میں جغرافیائی تنوع فراہم کرتا ہے اور مشرقی ساحل کے ٹرمینلز کے علاوہ ایک متبادل برآمدی راستہ مہیا کرتا ہے۔ اسی وجہ سے پائپ لائن کی دستیابی عالمی تیل منڈی کے لیے بھی اہم سمجھی جاتی ہے، خاص طور پر ایسے ادوار میں جب خطے میں سلامتی کے خطرات بڑھ جائیں۔
رائٹرز کے مطابق آرامکو نے اس پیش رفت پر فوری طور پر الگ تبصرہ نہیں کیا، اس لیے دستیاب معلومات میں صارفین کو جاری کردہ لوڈنگ شیڈول اور مارکیٹ ذرائع کی تصدیق مرکزی بنیاد ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی نہیں کہا گیا کہ ینبع سے برآمدات مکمل طور پر حملوں سے پہلے کی سطح پر پہنچ گئی ہیں؛ تصدیق شدہ بات یہ ہے کہ پائپ لائن دوبارہ چل رہی ہے اور خام تیل کی لوڈنگ بحال ہو چکی ہے۔
سعودی عرب دنیا کے بڑے خام تیل برآمد کنندگان میں شامل ہے اور اس کی برآمدی تنصیبات میں کسی بھی تعطل کو عالمی قیمتوں، ریفائنری سپلائی اور شپنگ شیڈول کے تناظر میں قریب سے دیکھا جاتا ہے۔ ینبع سے لوڈنگ کی بحالی اس رسد کے ایک اہم حصے کو دوبارہ فعال کرتی ہے، جبکہ آئندہ اکتوبر کے کارگو پروگرام سے اندازہ ہوگا کہ معمول کے تجارتی بہاؤ کی بحالی کس رفتار سے جاری رہتی ہے۔
