اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مجاز ڈیلر بینکوں کو دو لاکھ میٹرک ٹن چینی کی برآمد کے لیے اہل شوگر ملوں کی درخواستیں پراسیس کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ اسٹیٹ بینک کی 2 اکتوبر 2026 کی EPD سرکلر لیٹر نمبر 14 کے مطابق برآمدات پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کی جانب سے مقرر کردہ مل وار کوٹے کے مطابق ہوں گی اور بینکوں کو ہر درخواست پر متعلقہ شرائط کی تعمیل یقینی بنانا ہوگی۔

سرکلر میں کہا گیا ہے کہ چینی کی برآمد sight letter of credit یا پیشگی ادائیگی کے خلاف کی جا سکے گی۔ شپمنٹ صرف سمندری راستے سے ہوگی اور اس کے لیے کوئی حتمی شپمنٹ ڈیڈ لائن مقرر نہیں کی گئی۔ لیٹر آف کریڈٹ کی صورت میں برآمدی رقم کی وصولی اسٹیٹ بینک کے مقررہ ریگولیٹری وقت کے اندر مکمل کرنا ہوگی۔ بینکوں کو برآمدی لین دین اور شپمنٹ کی ہفتہ وار تفصیل اسٹیٹ بینک بینکنگ سروسز کارپوریشن کے متعلقہ دفتر کو فراہم کرنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔

اسٹیٹ بینک نے واضح کیا کہ مجاز ڈیلرز ہر لین دین کی due diligence کریں گے، برآمد کنندہ اور بنیادی تجارتی معاملے کی حقیقت اور قانونی حیثیت سے مطمئن ہوں گے اور صرف مقررہ کوٹے کے اندر مالی دستاویزات جاری کریں گے۔ سرکلر کے مطابق وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق نے یکم اکتوبر کو عملی طریقہ کار فراہم کیا، جبکہ پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے 28 ستمبر کو مل وار کوٹے کی تفصیل جاری کی تھی۔

دو لاکھ ٹن چینی کی برآمد کی بنیادی منظوری اقتصادی رابطہ کمیٹی نے ستمبر میں مخصوص شرائط کے ساتھ دی تھی اور وفاقی کابینہ نے اس فیصلے کی توثیق کی۔ اسٹیٹ بینک کا تازہ سرکلر اس منظوری کو بینکاری اور زرمبادلہ کے عملی طریقہ کار میں تبدیل کرتا ہے، یعنی اب اہل ملیں اپنے مقررہ حصے کے مطابق بینکوں کے ذریعے برآمدی کیسز آگے بڑھا سکتی ہیں۔

بزنس ریکارڈر اور پاکستان ٹوڈے نے بھی اسٹیٹ بینک کے سرکلر کی بنیاد پر یہی تفصیل رپورٹ کی ہے۔ تازہ ہدایت کسی نئی اضافی مقدار کی منظوری نہیں بلکہ پہلے منظور شدہ دو لاکھ میٹرک ٹن کوٹے کے نفاذ سے متعلق ہے۔ برآمد کی حقیقی مقدار اس بات پر منحصر ہوگی کہ کتنی اہل ملیں شرائط پوری کرتی ہیں، بینک کتنے کیسز منظور کرتے ہیں اور کتنی شپمنٹس مکمل ہوتی ہیں۔