کراچی: انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 میں ترمیم کے ذریعے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو ایک محفوظ اور مرکزی ورچوئل بینکاری ڈیٹا ریپوزٹری قائم، چلانے اور برقرار رکھنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ اس نظام میں شیڈول بینکوں کے پاس موجود اکاؤنٹ ہولڈرز کی مقررہ معلومات، ریکارڈ اور مالی لین دین کو ضابطے کے مطابق ڈیجیٹل انداز میں استعمال کیا جائے گا۔

ترمیم کے تحت انکم ٹیکس آرڈیننس میں نئی دفعہ 165AB شامل کی گئی ہے۔ اس کے مطابق بینکاری رازداری کے عمومی قوانین کے باوجود ہر بینکنگ کمپنی اور الیکٹرانک منی انسٹی ٹیوشن کو ان اکاؤنٹ ہولڈرز سے متعلق مقررہ معلومات مرکزی ڈیٹا ہب میں الیکٹرانک طور پر اپ لوڈ کرنا ہوں گی جن کے جمع یا نکلوائے گئے فنڈز کسی رپورٹنگ مدت میں 100 ملین روپے، یعنی 10 کروڑ روپے، سے تجاوز کریں۔

اس ڈیٹا کا مقصد ٹیکس اور بینکاری معلومات کا الگورتھم کے ذریعے کراس میچ کرنا ہے۔ ترمیم میں ایک اہم رازداری تحفظ بھی شامل کیا گیا ہے: کراس میچنگ کے دوران ڈیجیٹل طور پر پراسیس ہونے والی معلومات کسی انکم ٹیکس اتھارٹی کو براہ راست نظر نہیں آئیں گی۔ صرف اس صورت میں جب نظام کسی بڑے یا نمایاں عدم مطابقت کی نشاندہی کرے، متعلقہ نتیجہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے کمپلائنس رسک مینجمنٹ نظام میں مزید کارروائی کے لیے منتقل کیا جائے گا۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق ایسے کیسز میں اگلا مرحلہ نیشنل فیس لیس سینٹر کے ذریعے انجام دیا جا سکے گا۔ اس ترتیب کا مقصد بڑے مالی لین دین اور دستیاب ٹیکس معلومات کے درمیان فرق کی نشاندہی کو خودکار بنانا ہے، جبکہ ابتدائی الگورتھمک جانچ کے دوران خام معلومات تک ٹیکس حکام کی براہ راست رسائی محدود رکھی جائے گی۔

قانونی ترمیم میں رپورٹنگ پیریڈ، مخصوص تاریخ، اکاؤنٹس، پیک کریڈٹس، مرکزی ڈیٹا ہب اور کمپلائنس رسک مینجمنٹ جیسی اصطلاحات کی تعریف اور معلومات کی رازداری کے لیے حفاظتی شقوں کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ 100 ملین روپے کی حد کا مطلب یہ نہیں کہ ہر ایسی ٹرانزیکشن خود بخود ٹیکس خلاف ورزی تصور ہوگی؛ نظام پہلے معلومات کو خودکار طریقے سے ملائے گا اور صرف نمایاں عدم مطابقت کی صورت میں کیس کمپلائنس کے اگلے مرحلے تک جائے گا۔

یہ تبدیلی ٹیکس انتظامیہ میں ڈیٹا اینالیٹکس اور بینکاری معلومات کے استعمال کو ادارہ جاتی شکل دینے کی کوشش ہے۔ اس کا عملی اثر اس بات پر منحصر ہوگا کہ قواعد میں کون سی معلومات مقرر کی جاتی ہیں، رپورٹنگ مدت کیسے متعین ہوتی ہے اور رازداری و ڈیٹا سکیورٹی کے حفاظتی انتظامات کس طرح نافذ کیے جاتے ہیں۔