کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ان سوشل میڈیا رپورٹس اور سرخیوں کو گمراہ کن قرار دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF) نے پاکستان کے فوری ادائیگی نظام “راست” کو منی لانڈرنگ کے لیے استعمال ہونے والا چینل قرار دیا ہے۔ مرکزی بینک کے مطابق FATF کی تازہ رپورٹ نہ راست کو منی لانڈرنگ کا طریقہ قرار دیتی ہے اور نہ اس کے ادائیگی انفراسٹرکچر کی سالمیت پر کوئی مخصوص تشویش ظاہر کرتی ہے۔

اسٹیٹ بینک نے 4 ستمبر کو جاری وضاحت میں کہا کہ FATF رپورٹ کا موضوع مختلف ملکوں اور دائرۂ اختیار میں زیرزمین بینکاری، حوالہ نیٹ ورکس اور پیشہ ورانہ منی لانڈرنگ کے طریقوں کا بڑھتا ہوا استعمال ہے۔ رپورٹ میں یہ بحث کی گئی ہے کہ غیر رسمی نیٹ ورک بعض اوقات رسمی بینکنگ یا ادائیگی کے ذرائع سے کس طرح رابطہ قائم کرکے رقوم منتقل کرتے ہیں۔ مرکزی بینک کا مؤقف ہے کہ اس عمومی تناظر کو راست کے خلاف مخصوص نتیجہ بنانا رپورٹ کی غلط ترجمانی ہے۔

وضاحت کے مطابق راست کا ذکر ایک جائز ملکی ادائیگی چینل کے طور پر آیا ہے جو پاکستان کے اندر ادائیگیوں اور رقم کی منتقلی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اسٹیٹ بینک نے کہا کہ راست فی الحال سرحد پار رقوم کی منتقلی کی سہولت فراہم نہیں کرتا۔ اس لیے رپورٹ میں کسی پاکستان سے متعلق مثال یا رسمی ادائیگی کے ذکر کو یہ سمجھنا درست نہیں کہ FATF نے خود راست کے نظام کو غیر قانونی قرار دیا یا اس پر پابندی کی سفارش کی ہے۔

راست پاکستان کا مرکزی بینک کے زیر انتظام فوری ڈیجیٹل ادائیگی نظام ہے، جس کے ذریعے بینک اور دیگر مجاز مالی ادارے صارفین کو کم وقت میں ملکی سطح پر رقوم منتقل کرنے کی سہولت دیتے ہیں۔ اس نظام کی قانونی حیثیت، صارف شناخت، بینکوں کی نگرانی اور مشتبہ لین دین کی رپورٹنگ متعلقہ مالی ضوابط کے تحت رہتی ہے۔ مرکزی بینک نے کہا کہ وہ ادائیگی نظام کی سالمیت برقرار رکھنے اور بین الاقوامی معیارات کے مطابق حفاظتی اقدامات مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

یہ وضاحت FATF رپورٹ کے معنی اور راست کے موجودہ دائرۂ کار سے متعلق ہے۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ کوئی رسمی مالی چینل کبھی کسی فرد یا نیٹ ورک کے غلط استعمال کا نشانہ نہیں بن سکتا۔ FATF کی بنیادی تشویش بھی یہی ہے کہ مجرمانہ نیٹ ورک مختلف قانونی اور غیر قانونی ذرائع کو جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں، جس کے مقابلے کے لیے نگرانی، صارف کی شناخت اور بین الاقوامی تعاون ضروری رہتے ہیں۔

پاکستان ماضی میں انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کے نظام میں خامیوں کے باعث FATF کی اضافی نگرانی والی فہرست میں رہا، اور اکتوبر 2022 میں مطلوبہ ایکشن پلان مکمل کرنے کے بعد اس فہرست سے نکالا گیا تھا۔ موجودہ رپورٹ پاکستان کو دوبارہ فہرست میں شامل کرنے کا اعلان نہیں اور نہ ہی اسٹیٹ بینک کی وضاحت میں کسی نئی FATF کارروائی کا ذکر ہے۔

غلط یا سیاق سے ہٹی ہوئی سرخیاں عوامی اعتماد اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے استعمال پر اثر ڈال سکتی ہیں، اس لیے اصل رپورٹ اور مجاز ادارے کی وضاحت میں فرق رکھنا ضروری ہے۔ تصدیق شدہ نتیجہ یہ ہے کہ اسٹیٹ بینک نے راست کے خلاف منی لانڈرنگ سے متعلق مخصوص FATF اعتراض کی خبر کی تردید کی ہے؛ کسی الگ تفتیش، صارف کے لین دین یا مستقبل کے سرحد پار منصوبے کا فیصلہ اس وضاحت سے نہیں ہوتا۔