اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر 21.4 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے جاری سرکاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے ذخائر کی اس سطح کو معاشی استحکام کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا اور حکومتی اقتصادی ٹیم کی کوششوں کو سراہا۔
وزیراعظم آفس کے بیان میں کہا گیا کہ ترسیلات زر اور خدمات کی برآمدات میں بہتری، کرنٹ اکاؤنٹ کی بہتر صورت حال اور مالیاتی نظم و ضبط نے زرمبادلہ کی پوزیشن مضبوط کرنے میں کردار ادا کیا۔ وزیراعظم نے پاکستان کی بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹس میں واپسی کو بھی عالمی سطح پر اعتماد کی بحالی کی علامت قرار دیا۔ یہ حکومت کا بیان ہے اور اس میں معاشی پیش رفت کی تشریح حکومتی مؤقف کے طور پر سامنے آئی ہے۔
وزیراعظم کے مطابق ذخائر میں اضافہ بیرونی ادائیگیوں کی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت کو مضبوط کر سکتا ہے اور عالمی معاشی جھٹکوں کے مقابلے میں ملک کی گنجائش بہتر بنا سکتا ہے۔ زرمبادلہ ذخائر کسی بھی معیشت کے لیے درآمدی ادائیگیوں، قرضوں کی بیرونی ذمہ داریوں اور کرنسی مارکیٹ میں اعتماد کے حوالے سے اہم اشاریہ ہوتے ہیں، تاہم ان کی پائیداری کا انحصار آنے والے عرصے میں بیرونی رقوم کی آمد و اخراج، تجارتی توازن اور قرض ادائیگیوں پر بھی رہتا ہے۔
سرکاری خبر میں 21.4 ارب ڈالر کی سطح کو تاریخی بلند سطح قرار دیا گیا ہے۔ اس رپورٹ میں اسی سرکاری اعلامیے میں دی گئی رقم اور حکومتی تشریح بیان کی جا رہی ہے؛ ذخائر کے ہفتہ وار اعداد و شمار اور ان کی تفصیلی ساخت کے لیے اسٹیٹ بینک کی باقاعدہ شماریاتی اشاعت بنیادی حوالہ رہتی ہے۔
حکومت کے مطابق بہتر بیرونی کھاتے اور مالیاتی نظم و ضبط سے معاشی استحکام کو سہارا ملا ہے۔ آئندہ مہینوں میں درآمدی بل، عالمی تیل کی قیمتیں، قرضوں کی ادائیگیاں، برآمدات اور ترسیلات زر اس رجحان کی سمت متعین کرنے والے اہم عوامل ہوں گے۔
