اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنے پہلے ریگولیٹری سینڈ باکس کوہورٹ کی تکمیل کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت مالیاتی ٹیکنالوجی کے نئے حل محدود اور زیر نگرانی ماحول میں آزمائے گئے۔ یہ سینڈ باکس اگست 2025 میں اسٹیٹ بینک وژن 2028 کے تحت شروع کیا گیا تھا اور پہلے کوہورٹ میں اندرون ملک ترسیلات زر، اوپن بینکنگ اور تاجروں کی دور سے ڈیجیٹل آن بورڈنگ کے موضوعات پر توجہ دی گئی۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق چھ شرکا کو شارٹ لسٹ کر کے جنوری سے جون 2026 تک اپنے حل آزمائشی ماحول میں چلانے کی دعوت دی گئی۔ اس دوران مرکزی بینک کی ٹیموں نے شرکا کو ریگولیٹری رہنمائی اور ضروری تعاون فراہم کیا تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ مجوزہ ٹیکنالوجی عملی، محفوظ اور مالیاتی ضابطوں کے دائرے میں کس طرح کام کر سکتی ہے۔
کامیابی سے آزمائش مکمل کرنے والے حلوں میں ٹاپ ٹیپ سینڈ یو کے لمیٹڈ اور یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ کی ترسیلات زر سے متعلق مشترکہ پیشکش شامل ہے۔ اوپن بینکنگ کے شعبے میں ڈیجی کھاتا، سوئچ ریٹیل اور نیم ایکسپونینشل فنانشل سروسز کے حل بھی کامیاب مظاہرے تک پہنچے۔ اسٹیٹ بینک نے ان ناموں کو آزمائشی مرحلے کے نتائج کے طور پر جاری کیا ہے۔
مرکزی بینک نے ساتھ ہی ایک اہم قانونی اور ریگولیٹری وضاحت کی ہے: سینڈ باکس ٹیسٹنگ کی کامیاب تکمیل کا مطلب یہ نہیں کہ متعلقہ کمپنی یا پراڈکٹ کو خودکار طور پر تجارتی اجازت مل گئی ہے۔ کوئی بھی شریک اپنے آزمائے گئے مالیاتی پراڈکٹ یا خدمت کو عوام کے لیے تجارتی بنیاد پر متعارف کرانے سے پہلے اسٹیٹ بینک سے وہ تمام اجازتیں اور منظوری حاصل کرے گا جو متعلقہ قوانین اور ضوابط کے تحت لازم ہوں۔
ریگولیٹری سینڈ باکس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ نئے مالیاتی ماڈلز کو مکمل مارکیٹ میں لانے سے پہلے محدود دائرے میں جانچا جا سکے۔ اس طریقے سے ریگولیٹر کو ٹیکنالوجی، صارفین کے تحفظ، ڈیٹا کے استعمال، مالیاتی خطرات اور ضابطہ جاتی خلا کے بارے میں عملی شواہد مل سکتے ہیں، جبکہ کمپنیوں کو بھی یہ سمجھنے کا موقع ملتا ہے کہ ان کے حل کو پاکستان کے مالیاتی نظام میں شامل کرنے کے لیے کن شرائط کی ضرورت ہوگی۔
اسٹیٹ بینک نے کہا ہے کہ آئندہ بھی سینڈ باکس کے ذریعے فن ٹیک کمپنیوں اور بینکوں کو جدید، صارف دوست اور ٹیکنالوجی پر مبنی مالیاتی خدمات تیار کرنے کے لیے سہولت دی جائے گی۔ اس کا وسیع مقصد مالیاتی خدمات کی رسائی بڑھانا، صارف کے تجربے کو بہتر بنانا اور ایسے نئے ماڈلز کو جانچنا ہے جو روایتی بینکاری کے ساتھ محفوظ انداز میں مربوط ہو سکیں۔
پہلے کوہورٹ کی تکمیل پاکستان میں فن ٹیک ریگولیشن کے لیے ایک عملی مرحلہ ہے، لیکن اس کے نتائج کو حتمی مارکیٹ منظوری سے الگ سمجھنا ضروری ہے۔ اگلا مرحلہ ہر کامیاب شریک کے لیے متعلقہ پراڈکٹ کی نوعیت کے مطابق باضابطہ اجازت اور ممکنہ تجارتی لانچ کے تقاضے پورے کرنا ہوگا۔

