کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق 25 ستمبر 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے میں مرکزی بینک کے پاس موجود زرمبادلہ ذخائر 21 ارب 439.2 ملین ڈالر ریکارڈ کیے گئے۔ کمرشل بینکوں کے خالص ذخائر 5 ارب 331.7 ملین ڈالر رہے، جس کے بعد ملک کے مجموعی مائع زرمبادلہ ذخائر 26 ارب 770.9 ملین ڈالر بنتے ہیں۔ یہ اعداد اسٹیٹ بینک کے سرکاری اقتصادی ڈیٹا میں جاری کیے گئے ہیں۔
پاکستان ٹوڈے کے بزنس پورٹل کی رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ بینک کے ذخائر ہفتہ وار بنیاد پر تقریباً 39 ملین ڈالر بڑھے اور 21.439 ارب ڈالر تک پہنچے۔ تاہم کمرشل بینکوں کے ذخائر میں تبدیلی کے باعث ملک کے مجموعی مائع ذخائر گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں معمولی کم ہو کر 26.771 ارب ڈالر رہے۔ اس فرق سے ظاہر ہوتا ہے کہ مرکزی بینک کے ذخائر میں اضافہ لازماً مجموعی قومی مائع ذخائر میں اسی تناسب سے اضافے میں تبدیل نہیں ہوا۔
زرمبادلہ ذخائر پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں، درآمدی ضروریات، قرضوں کی ادائیگی اور کرنسی مارکیٹ کے اعتماد کے لیے ایک اہم معاشی اشاریہ ہیں۔ تاہم کسی ایک ہفتے کی معمولی تبدیلی سے طویل مدتی رجحان اخذ کرنا مناسب نہیں ہوتا کیونکہ ذخائر پر قرضوں کی آمد و ادائیگی، کثیرالجہتی اداروں کی رقوم، برآمدی وصولیوں، ترسیلات زر اور دیگر سرکاری و تجارتی بہاؤ کا اثر پڑتا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ڈیٹا کے مطابق 2 اکتوبر کو تین ماہ کا کائبور بولی نرخ 11.7 فیصد اور آفر نرخ 11.95 فیصد تھا، جبکہ مرکزی بینک کی پالیسی شرح 11.50 فیصد درج تھی۔ یہ شرحیں الگ مالیاتی اشاریے ہیں اور زرمبادلہ ذخائر کے ہفتہ وار اعداد سے براہ راست ایک ہی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔
تازہ ذخائر کے اعداد میں کسی نئی بیرونی مالی معاونت یا مخصوص قرض پروگرام کی رقم کو الگ سے وجہ قرار نہیں دیا گیا۔ اس لیے خبر کا بنیادی نکتہ سرکاری طور پر جاری کردہ ہفتہ وار پوزیشن ہے: اسٹیٹ بینک کے ذخائر 21.4392 ارب ڈالر، بینکوں کے ذخائر 5.3317 ارب ڈالر اور مجموعی مائع ذخائر 26.7709 ارب ڈالر۔
