کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے باضابطہ بینکاری ذرائع سے بیرون ملک پاکستانیوں کی ترسیلات زر بڑھانے کے لیے 16 ارب روپے کی سالانہ انعامی اسکیم متعارف کرا دی ہے۔ اسکیم کے تحت ہر سہ ماہی قرعہ اندازی میں 2,521 اہل وصول کنندگان کے درمیان مجموعی طور پر 4 ارب روپے تقسیم کیے جائیں گے۔

اعلان کے مطابق ہر سہ ماہی قرعہ اندازی میں سب سے بڑا انعام 10 کروڑ روپے ہوگا۔ اس کے علاوہ 20 انعامات ڈھائی کروڑ روپے، 100 انعامات ایک کروڑ روپے اور 2,400 انعامات 10 لاکھ روپے کے ہوں گے۔ اس طرح ایک سال میں چار قرعہ اندازیاں منعقد کرنے کا منصوبہ ہے اور مجموعی انعامی رقم 16 ارب روپے بنتی ہے۔

اہلیت کے لیے وصول کنندہ کو متعلقہ سہ ماہی کے ہر تین ماہ میں کم از کم 100 امریکی ڈالر یا اس کے مساوی رقم باضابطہ بینکنگ چینل کے ذریعے وصول کرنا ہوگی۔ پہلی قرعہ اندازی 15 جنوری کو ہوگی اور اس میں یکم اکتوبر سے 31 دسمبر تک موصول ہونے والی اہل ترسیلات شامل ہوں گی۔ اسکیم میں اہل افراد کو الگ درخواست دینے کے بجائے مقررہ شرائط پوری ہونے پر خودکار طور پر قرعہ اندازی میں شامل کیے جانے کا طریقہ رکھا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق کیش اوور دی کاؤنٹر اور روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے ذریعے آنے والی بعض ترسیلات اس مخصوص انعامی اسکیم میں شامل نہیں ہوں گی۔ اسٹیٹ بینک اور شریک بینکوں کو اہل لین دین کی شناخت اور قرعہ اندازی کے انتظامات کے لیے ڈیٹا اور ادائیگی کے نظام کو استعمال کرنا ہوگا۔

پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر اور بیرونی ادائیگیوں کے توازن میں کارکنوں کی ترسیلات زر اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ حکومت اور مرکزی بینک طویل عرصے سے غیر رسمی ذرائع کے بجائے بینکوں اور مجاز مالیاتی چینلز کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرتے رہے ہیں۔ نئی اسکیم کا مقصد مالی انعام کے ذریعے اسی رجحان کو تقویت دینا ہے۔ اس کی عملی کامیابی کا اندازہ آنے والے مہینوں میں رسمی چینلز سے ترسیلات کے حجم، اہل وصول کنندگان کی شرکت اور اسکیم کی انتظامی شفافیت سے ہوگا۔