اسلام آباد میں شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کی کونسل آف نیشنل کوآرڈینیٹرز کا تین روزہ اجلاس 28 ستمبر سے شروع ہو گیا ہے۔ وزارت خارجہ کے مطابق یہ 2026-27 کے لیے پاکستان کی ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کی صدارت کے دوران قومی رابطہ کاروں کا پہلا اجلاس ہے، جو 30 ستمبر تک جاری رہے گا۔ اجلاس کی صدارت پاکستان کے ایس سی او نیشنل کوآرڈینیٹر کریں گے، جبکہ رکن ممالک کے قومی رابطہ کار اور ایس سی او سیکرٹریٹ کے نمائندے شریک ہیں۔

وزارت خارجہ کے سرکاری بیان کے مطابق اجلاس میں تنظیم کے اندر تعاون اور رابطہ کاری سے متعلق وسیع ایجنڈا زیر بحث آئے گا۔ اس میں پاکستان کی صدارت کے دوران مجوزہ سرگرمیوں کا پروگرام، آئندہ ایس سی او اجلاسوں اور تقریبات کی تیاری، اور تنظیم کے جاری انتظامی و پالیسی امور شامل ہیں۔ اس اجلاس کو پاکستان کی صدارت کے ابتدائی عملی مرحلوں میں ایک اہم رابطہ فورم سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ قومی رابطہ کار تنظیم کے مختلف اداروں کے درمیان ورکنگ سطح کی ہم آہنگی میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔

پاکستان نے اپنی صدارت کے لیے “Turning Vision into Action: Connectivity, Innovation and Shared Prosperity” کا موضوع اختیار کیا ہے۔ وزارت خارجہ کے مطابق اسلام آباد اس مدت کے دوران علاقائی رابطہ کاری، اختراع، اقتصادی تعاون اور عوامی سطح کے روابط بڑھانے پر توجہ دے گا۔ ان ترجیحات کا مقصد رکن ممالک کے درمیان پہلے سے موجود اتفاق رائے کو عملی منصوبوں، ملاقاتوں اور مشترکہ سرگرمیوں میں تبدیل کرنا ہے۔

قومی رابطہ کاروں کا موجودہ اجلاس آئندہ اعلیٰ سطحی رابطوں کی تیاری سے بھی جڑا ہوا ہے۔ پاکستان اگست 2027 میں ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کا اجلاس میزبان ملک کے طور پر منعقد کرنے والا ہے، اس لیے موجودہ ملاقات میں اجلاسوں کے شیڈول، دستاویزی تیاری اور رکن ممالک کے درمیان رابطے جیسے امور بھی اہم ہیں۔ وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان ایس سی او سیکرٹریٹ اور تمام رکن ممالک کے ساتھ مل کر صدارت کے ایجنڈے کو آگے بڑھائے گا۔

شنگھائی تعاون تنظیم میں پاکستان سمیت متعدد یوریشیائی ممالک شامل ہیں اور اس کے ایجنڈے میں سلامتی، تجارت، اقتصادی تعاون، رابطہ کاری اور علاقائی مکالمہ شامل رہتا ہے۔ اسلام آباد میں جاری اجلاس پالیسی سازی کے آخری مرحلے کے بجائے رکن ممالک کے قومی رابطہ کاروں کی سطح پر تیاری اور ہم آہنگی کا فورم ہے۔ اس لیے اجلاس سے متعلق حتمی فیصلوں اور آئندہ پروگرام کی مکمل تفصیلات تین روزہ مشاورت کے اختتام اور بعد کی سرکاری اعلامیوں سے واضح ہوں گی۔