اسلام آباد: سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ (ایس ڈی پی آئی) نے نیٹ ورک فار کلین انرجی ٹرانزیشن (این سی ای ٹی) کے تعاون سے پاکستان میں بیٹری انرجی اسٹوریج کے لیے ایک روڈ میپ پر مبنی مطالعہ جاری کیا ہے۔ ڈان کی 22 ستمبر کی رپورٹ کے مطابق تحقیق میں بجلی کے گرڈ کو درپیش بڑھتے ہوئے مسائل کے تناظر میں بیٹری ذخیرہ کرنے کی ٹیکنالوجی کو منظم انداز میں اپنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

پاکستان میں شمسی توانائی کی تیز رفتار توسیع نے بجلی کے نظام میں نئے مواقع کے ساتھ نئے انتظامی مسائل بھی پیدا کیے ہیں۔ دن کے مختلف اوقات میں پیداوار اور طلب میں فرق، گرڈ کی لچک اور بجلی کے بہاؤ کو متوازن رکھنے کے لیے ذخیرہ کرنے کی ٹیکنالوجی اہم ہو سکتی ہے۔ بیٹری اسٹوریج اضافی بجلی کو محفوظ کر کے ضرورت کے وقت گرڈ کو واپس فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

مطالعے کا اجرا کسی سرکاری سطح پر ملک گیر بیٹری منصوبے کی فوری منظوری کے مترادف نہیں ہے۔ یہ ایک پالیسی اور تحقیقی روڈ میپ ہے جس کا مقصد ریگولیٹری، مالیاتی اور تکنیکی فیصلوں کے لیے شواہد اور تجاویز فراہم کرنا ہے۔ عملی نفاذ کے لیے حکومت، ریگولیٹرز، بجلی کمپنیوں اور نجی سرمایہ کاروں کے درمیان مزید فیصلے اور سرمایہ کاری درکار ہوگی۔

بیٹری توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام کی لاگت، عمر، حفاظت، درآمدی انحصار اور استعمال کے بعد بیٹریوں کی ری سائیکلنگ جیسے عوامل بھی اہم ہیں۔ اس لیے بڑے پیمانے پر تعیناتی کے ساتھ تکنیکی معیار اور ماحولیاتی ضوابط کا واضح ہونا ضروری ہوگا۔ دوسری جانب مناسب منصوبہ بندی سے ذخیرہ کرنے کی صلاحیت قابل تجدید توانائی کو گرڈ میں ضم کرنے اور بعض اوقات چوٹی کی طلب سنبھالنے میں مدد دے سکتی ہے۔

ایس ڈی پی آئی اور این سی ای ٹی کی تحقیق پاکستان کی توانائی منتقلی کے مباحثے میں ذخیرہ کرنے کی ٹیکنالوجی کو مرکزی موضوع کے طور پر سامنے لاتی ہے۔ اس روڈ میپ کے اثرات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ پالیسی ساز اس کی سفارشات میں سے کن اقدامات کو اپناتے ہیں اور ان کے لیے مالی اور ریگولیٹری ڈھانچہ کس رفتار سے تیار ہوتا ہے۔