سَسٹین ایبل ڈیولپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ (ایس ڈی پی آئی) نے نیٹ ورک فار کلین انرجی ٹرانزیشن کے تعاون سے پاکستان کے لیے گرڈ اسکیل بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز کے مؤثر استعمال اور موزوں مقامات کے انتخاب سے متعلق ایک قومی روڈمیپ پیش کیا ہے۔ ڈان کے مطابق نئی تحقیق کا مقصد بجلی کی ترسیل کے نظام میں رکاوٹیں کم کرنا، قابل تجدید توانائی کو بہتر انداز میں گرڈ میں شامل کرنا اور ایسے علاقوں کی نشاندہی کرنا ہے جہاں بڑے پیمانے کی بیٹری اسٹوریج سے سب سے زیادہ تکنیکی فائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔

مطالعے کا عنوان پاکستان میں گرڈ اسکیل بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز کے بہترین مقامات کے انتخاب سے متعلق ہے۔ رپورٹ میں دلیل دی گئی ہے کہ بیٹری اسٹوریج کو منصوبہ بندی کے ساتھ استعمال کرنے سے گرڈ کی لچک بہتر ہو سکتی ہے، شمسی اور ہوا سے پیدا ہونے والی متغیر توانائی کو زیادہ مؤثر طور پر جذب کیا جا سکتا ہے، بجلی ضائع ہونے یا قابل دستیاب پیداوار کو محدود کرنے کی ضرورت کم ہو سکتی ہے اور ترسیلی نیٹ ورک کی بندشوں یا گنجائش کی کمی کے اثرات میں کمی لائی جا سکتی ہے۔

تقریب میں ماہرین، ریگولیٹرز اور محققین نے بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز کے عملی استعمال پر تبادلہ خیال کیا۔ نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے یو ایس پاکستان سینٹر فار ایڈوانسڈ اسٹڈیز اِن انرجی سے وابستہ ڈاکٹر کاشف عمران نے کہا کہ تحقیق نے موزوں مقامات کے انتخاب پر اہم معلومات فراہم کی ہیں، تاہم شعبے میں بیٹری اسٹوریج کے کردار اور استعمال کے طریقہ کار سے متعلق اب بھی ابہام موجود ہے۔ انہوں نے سرمایہ کاروں کی سہولت کے لیے مرحلہ وار فریم ورک اور بہتر ڈیٹا استعمال کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

ایس ڈی پی آئی کے ریسرچ ایسوسی ایٹ محمد عمر نے بتایا کہ پاکستان کے بجلی کے شعبے میں انرجی ناٹ سروڈ یعنی طلب کے باوجود فراہم نہ کی جا سکنے والی بجلی سے متعلق نقصانات 2.77 گیگاواٹ آور تک ہیں۔ ان کے مطابق تحقیق کے چار اہم اہداف میں ڈیٹا پر مبنی مقامات کا انتخاب، گرڈ میں گنجائش اور پیداوار محدود ہونے کے مسائل میں کمی، سی پیک 2.0 سرمایہ کاری کے ساتھ کاروباری جواز تیار کرنا، اور پالیسی و ریگولیٹری روڈمیپ وضع کرنا شامل ہے۔

تحقیق میں نیشنل گرڈ کمپنی کے 500 کلو وولٹ اور 220 کلو وولٹ گرڈ اسٹیشنز کی ابتدائی اسکریننگ کی گئی۔ تکنیکی اور جغرافیائی عوامل کی بنیاد پر شکارپور، فیصل آباد، دادو اور روات سمیت مختلف مقامات کو ممکنہ بیٹری اسٹوریج تنصیبات کے لیے پرکھا گیا۔ رپورٹ نے سفارش کی کہ بیٹری اسٹوریج کی ماڈلنگ کو انڈیکیٹو جنریشن کیپیسٹی ایکسپینشن پلان میں شامل کیا جائے، اسے ٹرانسمیشن سسٹم ایکسپینشن پلاننگ کے ادوار کا حصہ بنایا جائے اور قومی سطح پر واضح تعیناتی روڈمیپ تشکیل دیا جائے۔

پاکستان میں شمسی توانائی کے تیزی سے پھیلاؤ کے ساتھ گرڈ کو دن کے مختلف اوقات میں پیداوار کے شدید فرق کا سامنا ہے۔ بیٹری اسٹوریج اضافی بجلی کو محفوظ کرکے بعد میں استعمال کرنے کی صلاحیت فراہم کرتی ہے، لیکن اس کے بڑے پیمانے پر نفاذ کے لیے سرمایہ کاری، ضابطہ کاری، تکنیکی معیار اور درست مقامات کے انتخاب کی ضرورت ہوگی۔ نئی تحقیق اسی پالیسی خلا کو کم کرنے کی ایک کوشش کے طور پر پیش کی گئی ہے۔