کراچی: سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز آف پاکستان (آباد) کے ارکان کو کارپوریٹائزیشن اور ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹس (ریئٹس) کے بارے میں بریفنگ دی، جس کے بعد تنظیم کے متعدد ارکان نے اپنے کاروبار کو باقاعدہ کارپوریٹ ڈھانچے میں منتقل کرنے اور ریئٹ رجسٹریشن کے امکانات پر غور شروع کیا ہے۔ یہ بریفنگ 23 ستمبر کو آباد کے کراچی ہیڈ آفس میں ہوئی۔

ایس ای سی پی کے مطابق اجلاس میں کمیشن کے کمشنر مظفر احمد مرزا نے کمپنی کی صورت میں کاروبار چلانے کے قانونی اور انتظامی پہلوؤں، محدود ذمہ داری، مسلسل کاروباری وجود اور رسمی مالیاتی نظام تک بہتر رسائی سے متعلق نکات بیان کیے۔ بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ کارپوریٹ حیثیت کاروباری اداروں کی شفافیت، ساکھ اور مقامی و بین الاقوامی منڈیوں سے سرمایہ حاصل کرنے کی صلاحیت کو بہتر بنانے میں کردار ادا کر سکتی ہے۔

کمیشن نے شرکا کو اپنے ڈیجیٹل فائلنگ پلیٹ فارم ای زیڈ فائل اور رجسٹری سے منسلک ڈیجیٹل سہولیات کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔ ایس ای سی پی کا کہنا ہے کہ ان سہولیات سے کمپنی رجسٹریشن اور بعد کی قانونی فائلنگ کے متعدد مراحل کو تیز اور آسان بنایا گیا ہے۔ ریئٹس کے حوالے سے شرکا کو بتایا گیا کہ اس ڈھانچے کے ذریعے رئیل اسٹیٹ اثاثوں کو منظم سرمایہ کاری کے فریم ورک میں لایا جا سکتا ہے، تاہم رجسٹریشن اور آپریشن کے لیے متعلقہ قوانین اور ریگولیٹری تقاضے پورے کرنا ضروری ہوں گے۔

اجلاس میں آباد کے چیئرمین محمد حسن بخشی، سینئر وائس چیئرمین سید افضل حمید، وائس چیئرمین طارق عزیز میمن اور بلڈرز و ڈیولپرز برادری کے نمائندوں نے شرکت کی۔ ایس ای سی پی کے مطابق آباد کی قیادت نے کمیشن کی آگاہی کوشش کو سراہا اور کمپنیز ایکٹ 2017 کے تحت رئیل اسٹیٹ شعبے سے متعلق سفارشات اور عملی مسائل پر رابطہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ریگولیٹر رئیل اسٹیٹ شعبے میں رسمی کاروباری ڈھانچوں، دستاویزی معیشت اور سرمایہ کاری کے منظم ذرائع کو فروغ دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ بریفنگ کا نتیجہ کسی لازمی تبدیلی یا فوری ریئٹ منظوری کا اعلان نہیں بلکہ آباد ارکان کی جانب سے ان آپشنز پر غور اور ایس ای سی پی کے ساتھ آئندہ رابطے کی پیش رفت ہے۔