اسلام آباد: سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) اور عسکری بینک لمیٹڈ نے ایک ایسا اے پی آئی انضمام مکمل کیا ہے جس کا مقصد نئی رجسٹرڈ کمپنیوں کے لیے کارپوریٹ بینک اکاؤنٹ کھولنے کا عمل تیز اور نسبتاً کم دستاویزی بنانا ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق عسکری بینک اس اقدام کے تحت ایس ای سی پی کی کارپوریٹ رجسٹری کے ساتھ اپنا نظام براہِ راست مربوط کرنے والا پہلا کمرشل بینک ہے۔

نئے انتظام کے تحت بینک ایس ای سی پی کے پاس موجود تصدیق شدہ کارپوریٹ معلومات محفوظ ڈیجیٹل طریقے سے حاصل کر سکے گا۔ اس سے کمپنیوں کو وہی دستاویزات بار بار جمع کرانے، بینک کی جانب سے متعدد دستی تصدیقی مراحل مکمل کرنے اور اکاؤنٹ آن بورڈنگ میں طویل وقت صرف کرنے کی ضرورت کم ہونے کی توقع ہے۔ ایس ای سی پی کے مطابق اس کا مقصد نئی کمپنیوں کو رجسٹریشن کے بعد جلد بینک اکاؤنٹ کھولنے اور کاروباری سرگرمیاں شروع کرنے میں سہولت دینا ہے۔

معاہدے پر ایس ای سی پی کے کمشنر مظفر مرزا اور عسکری بینک کے گروپ ہیڈ ریٹیل بینکنگ شیخ راشد رؤف نے دستخط کیے۔ تقریب میں ایس ای سی پی کے چیئرمین ڈاکٹر کبیر احمد سدھو، دیگر کمشنرز اور سینئر حکام کے ساتھ عسکری بینک کے صدر و چیف ایگزیکٹو زیا اعجاز اور بینک کے دیگر عہدیدار بھی شریک تھے۔

ایس ای سی پی چیئرمین نے اس انضمام کو ادارے کی جاری ڈیجیٹلائزیشن اور کاروباری ماحول بہتر بنانے سے متعلق اصلاحات کا حصہ قرار دیا۔ ان کے مطابق معتبر کارپوریٹ معلومات تک تیز رسائی، کاروباری عمل کو سادہ بنانے اور کمپنی قائم کرنے کے بعد عملی سرگرمیاں شروع کرنے میں رکاوٹیں کم کرنے کے لیے استعمال کی جا رہی ہے۔

ایس ای سی پی نے یہ بھی کہا ہے کہ اسی نوعیت کے ڈیجیٹل انضمام دیگر بینکوں اور مالیاتی اداروں تک بڑھانے کا منصوبہ ہے۔ اگر یہ توسیع ہوتی ہے تو کمپنیوں کو مختلف بینکوں میں کارپوریٹ اکاؤنٹ کھلوانے کے دوران رجسٹریشن ریکارڈ کی خودکار تصدیق کی سہولت زیادہ وسیع سطح پر دستیاب ہو سکتی ہے۔

دستیاب اعلامیے میں یہ نہیں بتایا گیا کہ تمام اقسام کی کمپنیوں کے لیے اکاؤنٹ کھولنے کا ایک مقررہ نیا وقت کیا ہوگا یا کن اضافی بینکنگ و ریگولیٹری جانچوں سے استثنا ملے گا۔ اس لیے اے پی آئی انضمام دستاویزی اور تصدیقی عمل کو آسان کرتا ہے، مگر بینکوں کی لازمی کسٹمر ڈیو ڈیلیجنس اور متعلقہ قانونی تقاضے بدستور لاگو رہیں گے۔